پشاور: شاہین افریدی
8 اکتوبر 2005 کی صبح خیبر پختونخوا کے شہر بالاکوٹ میں معمول کے مطابق زندگی شروع ہوئی تھی، لیکن چند لمحوں بعد زمین ایسی شدت سے لرزی کہ پورا شہر ملبے کا ڈھیر بن گیا۔ صبح تقریباً 8 بج کر 50 منٹ پر آنے والے 7.6 شدت کے زلزلے نے خیبر پختونخوا، آزاد کشمیر اور شمالی پاکستان کے کئی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ بالاکوٹ ان علاقوں میں شامل تھا جہاں تباہی سب سے زیادہ ہوئی۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں 73 ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے۔
لیکن 8 اکتوبر صرف اعداد و شمار کا نام نہیں۔ یہ ان خاندانوں کی کہانی بھی ہے جنہوں نے چند لمحوں میں اپنے پیاروں، گھروں اور زندگی بھر کی جمع پونجی کھو دی۔
”میں ملبے تلے دبی رہی، شام تک کوئی مجھے نکالنے نہیں آیا” بالاکوٹ کی رہائشی سعیدہ بی بی بھی ان لوگوں میں شامل تھیں جنہوں نے زلزلے کا درد اپنی زندگی پر برداشت کیا۔ 2011 میں ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا تھا کہ زلزلہ آنے کے وقت ان کی شادی کو صرف 13 دن ہوئے تھے۔ وہ اپنے گھر کے ملبے تلے دب گئی تھیں اور شام تک کوئی انہیں نکالنے نہیں پہنچا۔
سعیدہ بی بی نے بتایا کہ اس سانحے میں انہوں نے اپنے بھائی اور بہن کو بھی کھو دیا، جبکہ ان کی ایک ٹانگ بھی شدید زخمی ہونے کے بعد کاٹنا پڑی۔ متعدد آپریشنز کے بعد وہ دوبارہ زندگی کی طرف لوٹیں، لیکن 8 اکتوبر کی یاد آج بھی ان کے لیے ایک تکلیف دہ باب ہے۔
بالاکوٹ کے ایک اسکول کی پرنسپل آسیہ بی بی نے بھی اس سانحے میں اپنے 16 روزہ بچے کو کھو دیا۔ ان کی بیٹی حیاء اس وقت ملبے سے زندہ نکالی گئی، لیکن اس کی ایک ٹانگ کاٹنا پڑی۔ آسیہ بی بی کے مطابق وہ دن انتہائی خوفناک تھا اور زلزلے کے بعد بچوں کو ملبے سے نکالنے کے مناظر آج بھی ان کی یادوں کا حصہ ہیں۔
21 برس بیت گئے لیکن کچھ خاندانوں کے لیے زلزلہ آج بھی ختم نہیں ہوا۔ زلزلے کے کئی سال بعد بھی متاثرہ خاندانوں کے لیے رہائش ایک بڑا مسئلہ بنی رہی۔ بالاکوٹ کی ایک رہائشی پروین ذاکر نے بتایا تھا کہ زلزلے میں ان کے شوہر گھر میں ہی موجود تھے جب عمارت گرنے سے وہ جاں بحق ہوگئے۔ انہوں نے کہا تھا کہ انہیں آج بھی زلزلے کا خوف محسوس ہوتا ہے اور بعض راتوں میں وہ چیختے ہوئے اٹھ جاتی ہیں، کیونکہ انہیں لگتا ہے کہ دوبارہ زلزلہ آگیا ہے۔
18 سال بعد بیٹے کی اپنے خاندان سے ملاقات
زلزلے کی تباہی نے بعض خاندانوں کو برسوں تک ایک دوسرے سے جدا رکھا۔ 2023 میں ایک ایسا واقعہ بھی سامنے آیا جب ایک شخص، جو زلزلے کے وقت بچپن میں لاپتا ہوگیا تھا، تقریباً 18 سال بعد اپنے خاندان کی تلاش میں بالاکوٹ پہنچا۔ اعجاز احمد نے پولیس کو بتایا کہ زلزلے کے وقت وہ اسکول میں تیسری جماعت کا طالب علم تھا۔ اسکول کی عمارت گرنے سے وہ زخمی ہوا اور علاج کے لیے راولپنڈی منتقل کیا گیا، جہاں اس کے مطابق اسے نامعلوم افراد نے اغوا کرکے مختلف شہروں میں منتقل کیا اور اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرنے پر مجبور کیا۔ بالاکوٹ پہنچنے کے بعد اس نے پولیس سے اپنے خاندان کو تلاش کرنے میں مدد مانگی۔ اس کا والد بھی پولیس اسٹیشن پہنچا اور دونوں نے ایک دوسرے سے ملوایا۔
زلزلے کے بعد پاکستان اور دنیا بھر سے امدادی ٹیمیں بالاکوٹ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں پہنچیں۔ فوج، مقامی رضاکاروں اور امدادی اداروں نے ملبے سے لوگوں کو نکالنے، زخمیوں کو اسپتال پہنچانے اور متاثرین کو خوراک و رہائش فراہم کرنے میں کردار ادا کیا۔
بحالی کے لیے ارتھ کوئیک ریکنسٹرکشن اینڈ ری ہیبلیٹیشن اتھارٹی (ERRA) قائم کی گئی اور گھروں، اسکولوں، اسپتالوں اور دیگر سرکاری عمارتوں کی تعمیر نو کا منصوبہ بنایا گیا۔ تاہم بالاکوٹ کے لوگوں کے لیے تعمیر نو کا سفر مکمل طور پر آسان نہیں رہا۔ متاثرین کی ایک بڑی تعداد نے برسوں تک عارضی گھروں اور دیگر مشکلات میں زندگی گزاری۔ بالاکوٹ کے سابق تحصیل ناظم جنید قاسم کا کہنا تھا کہ زلزلے کے بعد 2015 میں نئے بالاکوٹ کی تعمیر کا وعدہ کیا گیا، لیکن ایک دہائی گزرنے کے باوجود یہ منصوبہ مکمل نہ ہوسکا۔ ان کے بقول متاثرین خود کو اب بھی عارضی گھروں میں رہنے والے بے گھر افراد سمجھتے تھے۔
