اسلام آباد (پاک ٹوڈے): قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی جانب سے اسپیکر چیمبر میں حکومت سے مذاکرات کے لیے جانے سے انکار کے بعد پاکستان تحریک انصاف نے حکومت سے مذاکرات کے لیے نیا 6 رکنی وفد تشکیل دے دیا ہے۔
محمود خان اچکزئی کا مؤقف ہے کہ وہ حکومت سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں، تاہم ملاقات وزیراعظم ہاؤس، وزیراعظم آفس یا اسپیکر چیمبر کے بجائے کسی غیر جانبدار مقام پر ہونی چاہیے۔
ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی کی جانب سے تشکیل دیے گئے نئے وفد میں بیرسٹر گوہر، راجا ناصر عباس، اسد قیصر، سلمان اکرم راجا، عامر ڈوگر اور حلیم عادل شیخ شامل ہیں۔
پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر کے مطابق پارٹی کی پولیٹیکل اور کور کمیٹی نے مذاکراتی وفد کے ارکان کی توثیق کردی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن وفد آج قومی اسمبلی کے اسپیکر کے دفتر میں حکومتی وفد سے ملاقات کرے گا۔
دوسری جانب حکومتی اور اتحادی جماعتوں نے بھی پی ٹی آئی سمیت اپوزیشن سے مذاکرات کا فیصلہ کیا ہے۔ صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کی ملاقات کے بعد حکومت اور پیپلز پارٹی پر مشتمل مشترکہ وفد کے ذریعے اپوزیشن سے بات چیت کا فیصلہ سامنے آیا تھا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہونے جا رہے ہیں جب پی ٹی آئی نے 4 اکتوبر کو احتجاجی مارچ کا اعلان کر رکھا ہے، جبکہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان خیبرپختونخوا کی صورتحال، ممکنہ گورنر راج یا ایمرجنسی اور سیاسی معاملات پر اختلافات برقرار ہیں۔
