دکی (پاک ٹوڈے): بلوچستان کے ضلع دکی میں چند روز قبل نامعلوم مسلح افراد کے ہاتھوں اغوا کیے گئے سڑک تعمیر کرنے والی نجی کمپنی کے 12 مزدوروں کی ویڈیو منظر عام پر آگئی ہے، جس میں مغویوں نے اپنی جان کو لاحق خطرے کا اظہار کرتے ہوئے مدد کی اپیل کی ہے۔
تفصیلات کے مطابق ناناصاحب زیارت کے قریب پلڑئ کے مقام پر دکی تا چمالنگ سڑک تعمیر کرنے والی نجی کمپنی کے کیمپ آفس پر مسلح افراد نے دھاوا بول کر وہاں موجود مزدوروں کو یرغمال بنا لیا تھا۔
ذرائع کے مطابق اغوا کیے گئے 12 مزدوروں میں سے 10 کا تعلق پنجاب کے شہر صادق آباد کے علاقے چوک چدھڑ، موضع الہٰ آباد سے ہے۔ ان میں سکندر خان، نعمان، شمن علی، نعیم خان، سمی خان، آفتاب، باسط علی اور ارشاد احمد شامل ہیں، جبکہ دیگر 2 مزدوروں کا تعلق دکی اور ڈیرہ اسماعیل خان سے بتایا جا رہا ہے۔
منظر عام پر آنے والی ویڈیو میں مغوی مزدوروں نے اپیل کرتے ہوئے بتایا کہ مسلح افراد نے اپنے مطالبات تسلیم کروانے کے لیے 4 دن کی مہلت دی تھی، جس میں سے 3 دن گزر چکے ہیں۔ مغویوں کے مطابق مطالبات پورے نہ ہونے کی صورت میں انہیں قتل کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
واقعے کے حوالے سے تاحال ضلعی انتظامیہ یا حکومتی سطح پر کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، جبکہ مغوی مزدوروں کی بازیابی اور واقعے کے دیگر پہلوؤں سے متعلق مزید معلومات کا انتظار ہے۔
