اسلام آباد (پاک ٹوڈے): پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے متوقع مارچ اور احتجاجی پیش قدمی کو روکنے کے لیے جڑواں شہروں کے اہم ترین سنگم ‘فیض آباد’ اور اس کے اطراف میں سیکیورٹی سخت کرتے ہوئے تمام تجارتی و ٹرانسپورٹ سرگرمیاں معطل کرنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔
پولیس اور مقامی انتظامیہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ فیض آباد اڈے اور قریبی علاقوں میں قائم تمام ہوٹلوں، ریسٹورنٹس اور دکانوں کے مالکان کو آج شام تک کاروبار مکمل طور پر بند کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ خطے میں موجود مسافر خانوں اور ٹرانسپورٹ اڈوں کی انتظامیہ کو بھی پابند کیا گیا ہے کہ وہ آج رات تک تمام اپریشنز روک دیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق راولپنڈی اور اسلام آباد کو ملانے والی مرکزی شاہراہوں پر کنٹینرز پہنچائے جا رہے ہیں تاکہ پی ٹی آئی کے ممبران یا قافلوں کو دارالحکومت میں داخل ہونے سے روکا جا سکے۔ اہم داخلی و خارجی راستوں پر ناکہ بندی کا عمل شروع کر دیا گیا ہے جس سے جڑواں شہروں کے درمیان آمدورفت شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
واضح رہے کہ تحریک انصاف نے 27 ستمبر کو وفاقی دارالحکومت کی جانب مارچ اور احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے۔ دوسری جانب وفاقی حکومت نے واضح مؤقف اپنایا ہے کہ کسی بھی صورت میں مظاہرین کو اسلام آباد میں داخلے یا امن و امان کی صورتحال خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ صوبائی سطح پر امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پنجاب حکومت کی جانب سے وفاق کو رینجرز اور پاک فوج کی تعیناتی کے لیے بھی مراسلہ ارسال کیا جا چکا ہے۔
