اسلام آباد (پاک ٹوڈے): امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ پٹرولیم لیوی کے خلاف احتجاج اور دھرنوں میں مزید وسعت آئے گی، جماعت اسلامی لانگ مارچ کے حق سے دستبردار نہیں ہوگی۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی درخواست پر لانگ مارچ چند روز کے لیے روکا گیا ہے، تاہم وزیراعظم کی وطن واپسی پر ملاقات کے دوران عوام کو ریلیف نہ دیا گیا تو جماعت اسلامی کے قافلے اسلام آباد کی جانب روانہ ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ بہتر یہی ہے کہ پٹرولیم لیوی ختم کردی جائے، بصورت دیگر عوام حکومت گرانے کے لیے نکل سکتے ہیں۔ ان کے مطابق وزیراعظم سے ملاقات کے بعد صورتحال واضح ہوگی، جبکہ اس وقت تک احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا اور لاہور سمیت دیگر شہروں میں عوامی جلسے بھی کیے جائیں گے۔
حافظ نعیم الرحمن نے دعویٰ کیا کہ جماعت اسلامی نے پٹرولیم لیوی کے خلاف ملک بھر میں 510 مقامات پر سڑکیں بند کرکے احتجاج شروع کیا، جبکہ 16 اگست سے ملک کے 42 مقامات پر دھرنے دیے گئے۔ ان کے مطابق حکومت کے ساتھ مذاکرات کے کئی ادوار ہوئے اور جماعت اسلامی نے قابل عمل تجاویز پیش کیں، تاہم حکومت کی جانب سے ان تجاویز کا مدلل جواب نہیں دیا گیا۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومت اپنے اخراجات اور مراعات کم کرے، جاگیرداروں پر ٹیکس عائد کرے، آئی پی پیز کو کیپیسٹی چارجز کی ادائیگیاں ختم کرے اور ایف بی آر میں مبینہ کرپشن کا خاتمہ کرے۔
انہوں نے کہا کہ عوام پٹرول کے ایک لٹر پر تقریباً 140 روپے ٹیکس ادا کر رہے ہیں، جسے مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔ حافظ نعیم الرحمن نے حکومت پر مختلف شعبوں کے مبینہ مافیاز کی سرپرستی کا الزام بھی عائد کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان پٹرولیم لیوی سمیت دیگر معاملات پر بات چیت جاری ہے، تاہم لیوی کے خاتمے تک احتجاج اور لانگ مارچ کے حق سے دستبردار نہیں ہوں گے۔
حافظ نعیم الرحمن نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جماعت اسلامی تنقید سے نہیں گھبراتی اور عوام اس کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ پہلے بھی مؤقف اختیار کر چکے ہیں کہ عمران خان سیاسی قیدی ہیں اور پی ٹی آئی کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے۔
