نیویارک (پاک ٹوڈے): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے اپنی حکومت کی پالیسیوں کا دفاع کیا اور کہا ہے کہ ان کے اقدامات کے نتیجے میں امریکا ماضی کے مقابلے میں زیادہ طاقتور اور مستحکم ہوا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ امریکی معیشت ترقی کر رہی ہے اور ان کی حکومت نے ملک کے مفاد میں مختلف مسائل کو جڑ سے ختم کیا ہے۔ انہوں نے تارکین وطن سے متعلق اپنی پالیسی کا بھی دفاع کرتے ہوئے کہا کہ امریکا میں اب وہی شخص داخل ہوسکتا ہے جسے داخلے کی اجازت دی جائے، جس سے ان کے بقول جرائم میں کمی آئی ہے۔
ایران کے حوالے سے امریکی صدر نے کہا کہ انہوں نے ایران کے ساتھ مذاکرات کی کوشش کی، تاہم ایرانی قیادت نے انکار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اب امریکا کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ ایران کو مزید آگے بڑھنے دیا جائے یا اس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔
ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکا ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ انہوں نے ایران کی کئی دہائیوں پر محیط حکومت پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور بنیادی حقوق سلب کرنے کے الزامات بھی عائد کیے۔
امریکی صدر نے اپنے دور حکومت کو عالمی امن کے حوالے سے نمایاں قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ واحد رہنما ہیں جنہوں نے امن کے قیام کے لیے عملی اقدامات کیے، جبکہ دیگر رہنما صرف باتیں کرتے رہے۔
کیوبا کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ امریکا مغربی نصف کرۂ ارض میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے ضرورت پڑنے پر غیر معمولی فوجی طاقت استعمال کرسکتا ہے۔ انہوں نے کیوبا کی حکومت پر امریکا میں موجود بعض سیاسی گروہوں سے رابطوں کے الزامات بھی عائد کیے۔
وینزویلا کے حوالے سے امریکی صدر نے امریکی پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ امریکا وینزویلا کے تیل سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔ ان کے مطابق وینزویلا کے 65 ارب بیرل سے زائد ثابت شدہ تیل کے ذخائر پر امریکا کو اکثریتی کنٹرول حاصل ہوا ہے جبکہ 17 آئل فیلڈز سے پیداوار امریکا منتقل کرنے کا منصوبہ بھی موجود ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ وینزویلا سے آنے والا اضافی تیل امریکی ریفائنریوں میں پروسیس کیا جائے گا، جس سے امریکی توانائی کی فراہمی میں اضافہ اور ایندھن کی قیمتوں میں کمی میں مدد مل سکتی ہے۔
