نوشکی (پاک ٹوڈے): ضلع نوشکی میں امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر سیکیورٹی فورسز کی جانب سے ممکنہ پیش رفت کے تحت مختلف علاقوں کے رہائشیوں کو دو ماہ تک کے لیے نقل مکانی کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔ مقامی سیکیورٹی ذرائع کے مطابق جن علاقوں کے شہریوں کو عارضی طور پر منتقل ہونے کی ہدایت کی گئی ہے ان میں کلی بھٹو، کلی ہارونی، کلی احمد وال اور کلی جورکین شامل ہیں۔ سیکیورٹی اداروں کی ہدایت کے مطابق شہریوں کو علاقہ چھوڑنے سے قبل ’احمد وال زائرین کیمپ‘ میں اپنا اندراج کروانے کا کہا گیا ہے تاکہ انتظامی عمل میں آسانی ہو سکے۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنا ضروری سامان ساتھ لے جائیں جبکہ پیچھے رہ جانے والی املاک کی حفاظت سیکیورٹی فورسز خود یقینی بنائیں گی۔ اسی سلسلے میں کلی بھٹو سے کلی جورکین تک کے علاقوں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے، جس کے باعث تمام کاروباری مراکز، مارکیٹیں اور پیٹرول پمپس مکمل طور پر بند ہیں۔ مزید برآں، آپریشن کے دوران طے شدہ ایام میں نوشکی-دالبندین اور نوشکی-خاران شاہراہوں کو بھی عارضی طور پر آمدورفت کے لیے بند رکھا جائے گا۔ دوسری جانب، مقامی آبادی اور مختلف مکاتبِ فکر کی جانب سے سیکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر کی جانے والی اس متوقع نقلِ مکانی پر شدید تشویش اور تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ نقادوں اور مقامی رہائشیوں کا کہنا ہے کہ دو ماہ کے طویل عرصے کے لیے گھر بار چھوڑنے، کاروبار کی بندش اور کرفیو جیسی پابندیوں سے عام شہریوں کی روزمرہ زندگی، تعلیم اور معیشت شدید متاثر ہوگی۔ مقامی سطح پر اس فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے مطالبات سامنے آ رہے ہیں کہ انتظامیہ شہریوں کو درپیش درپیش سفری اور رہائشی مشکلات کا فوری تدارک کرے اور سیکیورٹی اقدامات کے دوران عام عوام کے تحفظ اور بنیادی حقوق کا خاص خیال رکھا جائے۔
نوشکی کے مختلف علاقوں میں ممکنہ آپریشن: شہریوں کو نقل مکانی کی ہدایت، کرفیو نافذ
نوشکی-دالبندین اور نوشکی-خاران شاہراہیں مخصوص ایام میں بند رہیں گی
12
