اسلام آباد (پاک ٹوڈے): بین الاقوامی تحقیقاتی ادارے ‘آئی پی ایس او ایس’ کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین سروے رپورٹ کے مطابق پاکستان میں معاشی صورتحال کے حوالے سے عوامی اعتماد میں شدید کمی دیکھی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق صرف 14 فیصد پاکستانی ملکی معیشت کی موجودہ صورتحال کو مضبوط سمجھتے ہیں، یعنی تقریباً ہر سات میں سے صرف ایک شخص کو معیشت کے استحکام پر اعتماد ہے۔ چار ماہ قبل یہ شرح 20 فیصد تھی، جس میں اب مزید 6 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔
"مہنگائی اور بے روزگاری” 69 فیصد پاکستانیوں کے لیے مہنگائی سب سے بڑا مسئلہ بنی ہوئی ہے، جبکہ بے روزگاری اور غربت دیگر اہم خدشات میں شامل ہیں۔
"بجلی کے بل اور ٹیکس” بجلی کی قیمتوں میں اضافے پر عوامی تشویش 9 فیصد بڑھ کر 35 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جبکہ بجلی کی لوڈشیڈنگ اضافی ٹیکسوں سے بھی بڑا مسئلہ بن کر سامنے آئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق صرف 15 فیصد پاکستانی نئی سرمایہ کاری کے لیے پُراعتماد ہیں، جبکہ محض 16 فیصد افراد کو اپنے موجودہ روزگار اور ملازمت کے تحفظ کا احساس ہے۔ سروے میں شامل افراد میں سے صرف 25 فیصد (چار میں سے ایک شخص) کا ماننا ہے کہ ملک اس وقت درست سمت میں گامزن ہے۔
عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور مقامي کرنسی کی قدر میں کمی نے عوامی جذبات کو متاثر کیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق خطے میں ڈالر کے تناسب سے پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں بلند ترین سطح پر ہیں۔ سروے کے مطابق ہر پانچ میں سے دو پاکستانی سمجھتے ہیں کہ حکومت ایندھن کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے میں ناکام رہی ہے۔
آئی پی ایس او ایس پاکستان کے مینیجنگ ڈائریکٹر عبد الستار کے مطابق، جاری سہ ماہی کی تصویر مکمل اعتماد کے بجائے محتاط بحالی کی نشاندہی کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ معاشی دباؤ اب بھی پاکستانیوں کی سب سے بڑی تشویش ہے، یہی وجہ ہے کہ روزگار اور سرمایہ کاری پر کم اعتماد کے باعث عوام فی الوقت بڑے مالی فیصلے کرنے سے گریزاں ہیں۔
