اسلام آباد (پاک ٹو ڈے): خلیج کی اہم ترین سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز اور اس کے اطراف میں بحران سنگین رخ اختیار کر گیا۔ ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان جاری علاقائی کشیدگی کے باعث گزشتہ 6 ماہ میں تجارتی جہاز رانی شدید متاثر ہوئی ہے، جس کے دوران 68 سنسنی خیز اور خطرناک واقعات ریکارڈ کیے گئے۔
بین الاقوامی میری ٹائم آرگنائزیشن (IMO) کے اعداد و شمار کے مطابق ان سمندری حادثات اور حملوں کے نتیجے میں کم از کم 20 بحری عملے کے ارکان اور پورٹ ملازمین جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ 35 افراد زخمی اور ایک شخص لاپتا ہے۔
اعداد و شمار کے جائزے سے معلوم ہوتا ہے کہ خطے میں ہر 2.6 دن بعد اوسطاً ایک نیا واقعہ پیش آرہا ہے۔ برطانیہ کی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے تصدیق کی ہے کہ 68 میں سے 47 واقعات براہ راست سیکیورٹی حملے تھے، جو اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ تجارتی جہاز ہدف بنا کر نشانہ بنائے جا رہے ہیں۔
متاثرہ بحری جہازوں میں:
آئل ٹینکرز: کل واقعات کا تقریباً 50 فیصد
کنٹینر جہاز: 20 فیصد کے قریب
بلک کیریئرز: 15 فیصد
رجسٹریشن یا ‘فلیگ’ کی بنیاد پر لائبیریا کے پرچم بردار جہاز سب سے زیادہ (13 واقعات) متاثر ہوئے، جبکہ پاناما اور مارشل آئی لینڈز کے 10، 10 جہاز ان واقعات کی زد میں آئے۔
عالمی معیشت اور شپنگ پر اثرات
آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی سپلائی لائن کا دل سمجھی جاتی ہے، جہاں سے دنیا بھر کو مائع گیس اور خام تیل کی بڑی مقدار منتقل ہوتی ہے۔ مسلسل حملوں کے باعث عالمی شپنگ کمپنیوں کو جہازوں کی حفاظت، بحری انشورنس کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور طویل متبادل راستوں کے انتخاب جیسے شدید مالی و عملی مسائل کا سامنا ہے، جس کے اثرات عالمی منڈی پر مرتب ہونے کا اندیشہ ہے۔
