شاہین افریدی
پاکستان کے سابق فاسٹ بولر محمد عامر افغانستان پریمیئر لیگ (APL T20) کا حصہ بن گئے ہیں۔ انہیں 3 نومبر کو دبئی میں ہونے والے کھلاڑیوں کے ڈرافٹ میں قندھار واریئرز نے پلاٹینم کیٹیگری کے پہلے انتخاب کے طور پر اپنی ٹیم میں شامل کیا۔ اس کیٹیگری میں کھلاڑیوں کا معاوضہ ایک لاکھ امریکی ڈالر مقرر کیا گیا ہے۔ محمد عامر نے اس لیگ کے لیے برطانوی شہری کی حیثیت سے رجسٹریشن کرائی ہے، جبکہ ڈرافٹ میں ان کی رہائشی حیثیت پاکستان درج کی گئی ہے۔ اس طرح وہ افغان لیگ میں پاکستان کے ایک سابق بین الاقوامی کھلاڑی کی حیثیت سے نہیں بلکہ برطانوی شہریت رکھنے والے کرکٹر کے طور پر شامل ہوں گے۔
افغانستان پریمیئر لیگ کا نیا ایڈیشن آٹھ سال کے وقفے کے بعد واپس آ رہا ہے۔ اس لیگ کا پہلا سیزن 2018 میں متحدہ عرب امارات کے شہر شارجہ میں کھیلا گیا تھا، جس کے بعد یہ مقابلے تعطل کا شکار رہے۔ اب افغانستان کرکٹ بورڈ نے نئے انتظامات کے تحت پانچ فرنچائزز کے ساتھ لیگ دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ 2026 کے ایڈیشن کا آغاز 27 دسمبر کو متحدہ عرب امارات میں ہوگا۔ تین نومبر کو دبئی میں کھلاڑیوں کا ڈرافٹ مکمل ہوا، جس میں 462 شارٹ لسٹڈ کھلاڑیوں میں سے 90 کرکٹرز منتخب کیے گئے۔ پانچوں ٹیموں نے اپنے 19 رکنی اسکواڈ مکمل کر لیے ہیں۔
لیگ میں پانچ ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں، جن میں قندھار واریئرز، کابل کی ایکسل یونائیٹڈ، بلخ، ننگرہار اور پکتیا شامل ہیں۔ ان ٹیموں کی قیادت افغانستان کے معروف کھلاڑی کریں گے۔ راشد خان قندھار واریئرز، ابراہیم زدران ٹیم بلخ، رحمان اللہ گربز ننگرہار، عظمت اللہ عمرزئی ایکسل یونائیٹڈ کابل اور رحمت شاہ پکتیا کی نمائندگی کریں گے۔ ان فرنچائزز میں افغانستان کے مقامی کھلاڑیوں کے علاوہ انگلینڈ، پاکستان، سری لنکا، بنگلہ دیش، ویسٹ انڈیز، جنوبی افریقہ اور دیگر ممالک کے بین الاقوامی کرکٹرز بھی شامل ہیں۔
قندھار واریئرز نے محمد عامر کے علاوہ افغانستان کے تجربہ کار آل راؤنڈر محمد نبی، انگلینڈ کے جو کلارک، سری لنکا کے کوسل پریرا، انگلینڈ کے ٹائمل ملز اور جنوبی افریقہ کے ڈوائن پریٹوریئس جیسے کھلاڑیوں کو بھی اسکواڈ میں شامل کیا ہے۔ اس ٹیم کی قیادت افغانستان کے اسٹار لیگ اسپنر راشد خان کریں گے۔ دوسری جانب دیگر ٹیموں میں معین علی، الیکس ہیلز، شکیب الحسن، وینندو ہسارنگا، جانیسن چارلس اور عمران طاہر جیسے نام بھی شامل ہیں۔ یوں اس لیگ میں کئی ایسے کھلاڑی ایک ساتھ کھیلتے نظر آئیں گے جو مختلف بین الاقوامی اور فرنچائز مقابلوں میں اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر چکے ہیں۔
محمد عامر نے مئی 2026 میں برطانوی شہریت حاصل کی تھی۔ ان کی اہلیہ نرجس خان بھی برطانوی شہری ہیں۔ برطانوی پاسپورٹ حاصل کرنے کے بعد عامر نے انگلینڈ کی ڈومیسٹک کرکٹ میں مقامی کھلاڑی کے طور پر کھیلنے کا راستہ اختیار کیا۔ جون 2026 میں وہ انگلش کاؤنٹی کلب ناٹنگھم شائر (Nottinghamshire) میں شامل ہوئے اور وائٹیلٹی ٹی ٹوئنٹی بلاسٹ کے بقیہ سیزن کے لیے ٹیم کا حصہ بنے۔ اس سے قبل وہ ڈربی شائر، گلوسٹر شائر اور ایسیکس کی نمائندگی بھی کر چکے ہیں۔
برطانوی شہریت کے باعث محمد عامر کی افغانستان پریمیئر لیگ میں شمولیت کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجودہ سیاسی اور سفارتی کشیدگی کے باعث پاکستانی کرکٹرز کی اس لیگ میں شرکت اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے این او سی کا معاملہ بھی زیر بحث ہے۔ تاہم عامر نے برطانوی شہری کی حیثیت سے رجسٹریشن کرائی ہے۔ ان کی شہریت اور لیگ میں شرکت کی قانونی حیثیت کو الگ الگ دیکھنا ضروری ہے، کیونکہ کسی دوسرے ملک کی شہریت حاصل کرنا بذاتِ خود ہر کرکٹ بورڈ کے ضوابط سے خودکار استثنا نہیں دیتا۔
محمد عامر کا شمار پاکستان کے نمایاں بائیں ہاتھ کے فاسٹ بولرز میں ہوتا ہے۔ انہوں نے جون 2009 میں پاکستان کی جانب سے بین الاقوامی کرکٹ کا آغاز کیا۔ اپنے کیریئر کے دوران انہوں نے پاکستان کی طرف سے تینوں فارمیٹس میں مجموعی طور پر 159 بین الاقوامی میچز کھیلے اور 271 وکٹیں حاصل کیں۔
ان کی ٹیسٹ کرکٹ میں کارکردگی کی بات کی جائے تو انہوں نے 36 میچز میں 119 وکٹیں حاصل کیں۔ ون ڈے انٹرنیشنل میں 61 میچز کھیل کر 81 وکٹیں حاصل کیں، جبکہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں 62 میچز کے دوران 71 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ اس طرح ان کے بین الاقوامی کیریئر میں مجموعی طور پر 271 وکٹیں شامل ہیں۔
محمد عامر پاکستان کی 2009 کی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ فاتح ٹیم کا حصہ تھے۔ تاہم ان کے کیریئر کا سب سے یادگار مرحلہ 2017 کی آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کا فائنل تھا، جب پاکستان نے بھارت کو شکست دے کر ٹائٹل اپنے نام کیا۔ اوول میں کھیلے گئے اس فائنل میں عامر نے بھارت کے تین اہم بلے بازوں روہت شرما، ویرات کوہلی اور شیکھر دھون کو آؤٹ کیا تھا۔ انہوں نے 16 رنز دے کر تین وکٹیں حاصل کیں اور پاکستان کی تاریخی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔
عامر کا کیریئر صرف کامیابیوں تک محدود نہیں رہا۔ 2010 میں انگلینڈ کے دورے کے دوران اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل سامنے آنے کے بعد انہیں پانچ سال کی پابندی کا سامنا کرنا پڑا۔ بعد ازاں انہوں نے 2016 میں پاکستان کی قومی ٹیم میں واپسی کی اور دوبارہ بین الاقوامی کرکٹ میں اپنی جگہ بنائی۔ دسمبر 2024 میں انہوں نے دوسری مرتبہ انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا۔ ان کا آخری بین الاقوامی میچ جون 2024 میں آئرلینڈ کے خلاف ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں تھا۔
محمد عامر کی بولنگ کا اعتراف صرف پاکستانی کرکٹرز ہی نہیں بلکہ روایتی حریف بھارتی ٹیم کے بڑے کھلاڑی بھی کرتے رہے ہیں۔ بھارتی اسٹار بلے باز اور سابق کپتان ویرات کوہلی نے اکتوبر 2017 میں ایک انٹرویو کے دوران محمد عامر کو اپنے کیریئر کے مشکل ترین بولرز میں سے ایک قرار دیا تھا۔ کوہلی کا کہنا تھا کہ عامر دنیا کے دو یا تین بہترین بولرز میں شامل ہیں اور ان کے خلاف کھیلنے کے لیے بلے باز کو اپنی بہترین کارکردگی دکھانا پڑتی ہے، ورنہ وہ کسی بھی وقت وکٹ حاصل کر سکتے ہیں۔ کوہلی نے 2016 کے ایشیا کپ میں بھی عامر کی بولنگ کو عالمی معیار کی قرار دیا تھا۔
پاکستان کے سابق کپتان اور عظیم فاسٹ بولر وسیم اکرم نے بھی محمد عامر کی صلاحیتوں کو سراہا تھا۔ جون 2016 میں انہوں نے عامر کو پاکستان کرکٹ کا مستقبل قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ایک بہترین بولر ہیں۔ وسیم اکرم نے انہیں مشورہ دیا تھا کہ وہ صرف کرکٹ پر توجہ دیں اور دیگر معاملات سے خود کو دور رکھیں۔ بعد ازاں 2021 میں بھی وسیم اکرم نے عامر کو دنیا کے بہترین ٹی ٹوئنٹی بولرز میں شمار کرتے ہوئے پاکستان کی ٹی ٹوئنٹی ٹیم میں شامل کرنے کی حمایت کی تھی۔
محمد عامر کی قندھار واریئرز میں شمولیت کئی حوالوں سے اہم ہے۔ ایک طرف یہ لیگ آٹھ سال بعد دوبارہ بین الاقوامی کرکٹ کے کیلنڈر میں جگہ بنا رہی ہے، جبکہ دوسری جانب پاکستان کے سابق بین الاقوامی فاسٹ بولر کی برطانوی شہریت کے ساتھ اس میں شرکت بھی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ عامر کو اپنی ٹیم میں راشد خان، محمد نبی اور دیگر بین الاقوامی کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنے کا موقع ملے گا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ 27 دسمبر سے متحدہ عرب امارات میں شروع ہونے والی اس لیگ میں وہ اپنی سابقہ کارکردگی اور تجربے کو کس حد تک برقرار رکھ پاتے ہیں۔
