ریاض حسین
پشاور: پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے بغیر پراسیسنگ کے سبز پتوں اور ہاتھ سے ڈنٹھل الگ کیے گئے تمباکو پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (ایف ای ڈی) کے نفاذ کو غیر قانونی قرار دینے کے فیصلے کا تمباکو صنعت سے وابستہ حلقوں نے خیرمقدم کیا ہے۔ صنعتکاروں کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے کاروباری اخراجات میں کمی، صنعتی سرگرمیوں کی بحالی، روزگار کے تحفظ اور تمباکو کے کاشتکاروں کو ریلیف ملنے کی توقع ہے۔
جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس محمد فہیم ولی پر مشتمل پشاور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے ہاتھ سے ڈنٹھل الگ کیے گئے تمباکو پر ٹیکس کے نفاذ، گوداموں کی بندش اور تمباکو کے ذخیرے، مشینری اور دیگر سامان کی ضبطی کے خلاف دائر 14 درخواستوں پر فیصلہ سنایا۔
عدالت نے اپنے 29 صفحات پر مشتمل فیصلے میں قرار دیا کہ فیڈرل ایکسائز ایکٹ 2005 کے تحت تمباکو کے پتوں سے ہاتھ کے ذریعے ڈنٹھل الگ کرنا مینوفیکچرنگ کے زمرے میں نہیں آتا، جب تک اسے گرین لیف تھریشنگ (جی ایل ٹی) یونٹ کے ذریعے پراسیس نہ کیا جائے۔
عدالت نے متعلقہ حکام کو ضبط شدہ تمباکو، گاڑیاں اور مشینری واپس کرنے اور متاثرہ گوداموں کو ڈی سیل کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے رائل ٹوبیکو کمپنی پر عائد 12 کروڑ 39 لاکھ 92 ہزار روپے کے متنازعہ ایکسائز ڈیوٹی کے مطالبے کو بھی کالعدم قرار دیتے ہوئے اس کا ضبط شدہ تمباکو واپس کرنے کی ہدایت کی۔
تمباکو پراسیسنگ کے ماہر الل زادہ جمال نے عدالتی فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے تمباکو کی خریداری، پراسیسنگ اور کٹنگ کے مختلف مراحل پر ٹیکس عائد کرنے سے پیداواری لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا اور تمباکو پراسیسنگ یونٹس شدید مالی دباؤ کا شکار ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ ایک ہی تمباکو پر خریداری، پراسیسنگ اور کٹنگ کے مراحل میں الگ الگ ٹیکس عائد ہونے سے دوہری بلکہ بعض صورتوں میں تین گنا ٹیکس کا بوجھ پڑتا ہے، جس سے صنعتی سرگرمیاں متاثر ہوتی ہیں۔ ان کے مطابق تمباکو پراسیسنگ یونٹس کی بندش سے لاکھوں مزدوروں کا روزگار بھی متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے ٹیکس نظام کو شفاف اور منصفانہ بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
دوسری جانب خیبر پختونخوا میں کاشتکاروں کے نمائندے محمد علی ڈگیوال نے تمباکو کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ عدالتی فیصلے کے مثبت اثرات کاشتکاروں تک پہنچائیں، ان کے ساتھ تعاون بڑھائیں اور خریداری کے معاملات میں منصفانہ پالیسی اختیار کریں۔
انہوں نے کہا کہ کاشتکار توقع رکھتے ہیں کہ صنعتکار انہیں ریلیف فراہم کریں گے، خریداری کے معاہدوں کی پاسداری کریں گے اور ان کے ساتھ خوش اسلوبی سے معاملات طے کریں گے۔ انہوں نے تمباکو کے استعمال، برآمدات اور خریداری کے اعداد و شمار میں شفافیت لانے اور کاشتکاروں کو اپنی اضافی پیداوار فروخت کرنے کے مناسب مواقع فراہم کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
ڈگیوال کے مطابق تمباکو کے کاشتکار اور صنعتکار اس شعبے کے اہم شراکت دار ہیں، اس لیے باہمی اعتماد، تعاون اور منصفانہ رویہ ہی تمباکو کی صنعت کو پائیدار بنیادوں پر ترقی دینے اور کاشتکاروں کے مفادات کے تحفظ میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
تمباکو کا شعبہ قومی اور صوبائی معیشت کے لیے بھی اہم مالیاتی ذریعہ ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق وفاقی حکومت کو تمباکو پر عائد سینٹرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں سالانہ تقریباً 150 ارب روپے جبکہ خیبر پختونخوا کی صوبائی حکومت کو تمباکو سیس کی مد میں تقریباً ایک ارب روپے حاصل ہوتے ہیں۔ اس طرح تمباکو کی صنعت نہ صرف ہزاروں کاشتکاروں اور مزدوروں کے روزگار سے وابستہ ہے بلکہ سرکاری محصولات میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔
ماہرین کے مطابق پشاور ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے تمباکو پر ٹیکس کے نظام، پراسیسنگ انڈسٹری، روزگار اور خیبر پختونخوا کے زرعی شعبے پر اہم اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے، جہاں تمباکو ایک اہم نقد آور فصل ہے۔
عدالت نے واضح کیا کہ اس کا فیصلہ ایسے تمباکو سے متعلق ہے جسے جی ایل ٹی یونٹ کے ذریعے پراسیس نہیں کیا گیا، جبکہ سیلز ٹیکس اور دیگر قانونی واجبات سے متعلق معاملات متعلقہ قوانین کے مطابق طے کیے جائیں گے۔
