تہران (پاک ٹوڈے): ایران نے اپنے جوہری پروگرام سے متعلق بعض اہم امور پر امریکا کے ساتھ بات چیت کے لیے آمادگی ظاہر کردی ہے، جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان جاری جنگ ختم کرنے اور جنگ بندی کے لیے مذاکرات میں پیشرفت کی امید پیدا ہوگئی ہے۔
بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق مذاکرات سے واقف ایک سفارت کار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ امریکا اور ایران جنگ کے خاتمے کے لیے ہونے والی کوششوں میں ممکنہ پیشرفت کے قریب پہنچ رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایران نے اپنے جوہری پروگرام سے متعلق ایسے معاملات پر بھی بات چیت پر رضامندی ظاہر کی ہے جو اس سے قبل مذاکرات کے ایجنڈے میں شامل نہیں تھے۔
سفارت کار کے مطابق ایران قطر کی جانب سے پیش کردہ تجاویز کا بغور جائزہ لے رہا ہے، جن میں ایرانی جوہری سرگرمیوں سے متعلق امور بھی شامل ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان معاملات پر ایران کی جانب سے ممکنہ لچک مذاکرات میں اہم پیشرفت ثابت ہوسکتی ہے۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب قطر امریکا اور ایران کے درمیان رابطوں کے ذریعے کشیدگی کم کرنے اور جنگ کے خاتمے کے لیے ثالثی کی کوششیں کررہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی حال ہی میں قطری امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے ٹیلی فون پر گفتگو کی تھی، جس میں علاقائی بحرانوں کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
بلومبرگ کے مطابق حالیہ پیشرفت سے واشنگٹن اور تہران کے درمیان جنگ ختم کرنے کے لیے مذاکرات کا راستہ کھلنے کی امید پیدا ہوئی ہے، تاہم کسی حتمی معاہدے یا ایران کی جانب سے باضابطہ رعایت کی تاحال تصدیق نہیں ہوئی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ طویل عرصے سے مؤقف اختیار کرتے آئے ہیں کہ ایران کے خلاف جنگ کا بنیادی مقصد اسے جوہری ہتھیار بنانے سے روکنا ہے، جبکہ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہے۔
رپورٹ کے مطابق اگر ایران اپنی جوہری سرگرمیوں کے حوالے سے مزید شفافیت دکھانے پر آمادہ ہوتا ہے تو اسے امن مذاکرات میں پیشرفت کی بنیاد بنایا جاسکتا ہے۔
دوسری جانب یہ پیشرفت امریکا میں وسط مدتی انتخابات کے دوران ریپبلکن پارٹی کو ڈیموکریٹس کے مقابلے میں سیاسی نقصان کا سامنا کرنے کے پس منظر میں بھی سامنے آئی ہے۔ بلومبرگ نے صدر ٹرمپ کی جانب سے جنگ کے خاتمے کی کوششوں کو اس سیاسی صورتحال کے تناظر میں بھی دیکھا ہے۔
