جکارتہ (پاک ٹوڈے): انڈونیشیا میں صدر پرابوو سوبیانتو اور دیگر اہم شخصیات کے فون غیر قانونی طور پر ٹیپ کرنے کے الزام میں پولیس کے تین اعلیٰ افسران کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
نیشنل پولیس کے کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے سربراہ آسپ سفردین نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ گرفتار افسران کے خلاف مواصلاتی رابطوں کی غیر قانونی نگرانی، اجازت کے بغیر الیکٹرانک نظام تک رسائی اور ڈیجیٹل ریکارڈ حذف کرنے کے الزامات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
گرفتار افسران میں صدارتی چیف آف اسٹاف جنرل لیستیو سگیت پرابوو، نیشنل پولیس کے قانونی شعبے کے سربراہ انسپکٹر جنرل آہریے سونتا ناسوتیون اور پولیس کے تربیتی ادارے کے سینئر انسٹرکٹر انسپکٹر جنرل ایکو ہادی سانتوسو شامل ہیں۔ تینوں کو پولیس ہیڈکوارٹر کے حراستی مرکز میں رکھا گیا ہے۔
تحقیقاتی حکام کے مطابق مبینہ غیر قانونی نگرانی کا دائرہ صدر، سرکاری عہدیداروں، سیاسی رہنماؤں، صحافیوں، سماجی کارکنوں، غیر سرکاری تنظیموں کے نمائندوں اور کاروباری شخصیات تک پھیلا ہوا تھا۔ حکام کا الزام ہے کہ یہ سرگرمیاں 2025 سے 2026 کے دوران جاری رہیں۔
پولیس نے بتایا کہ تحقیقات کے سلسلے میں 10 گواہوں اور تین ماہرین سے پوچھ گچھ کی گئی ہے، جبکہ شواہد کے طور پر 11 موبائل فون، ایک آئی پیڈ اور چار یو ایس بی ڈرائیوز قبضے میں لی گئی ہیں۔
آسپ سفردین کے مطابق بعض فون نمبرز کو تصدیق اور قانونی اجازت کے بغیر نگرانی کے نظام میں شامل کیا گیا تھا۔ ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے حال ہی میں اس نظام سے فون ٹیپنگ سے متعلق ریکارڈ بھی حذف کرنے کا حکم دیا تاکہ شواہد مٹائے جا سکیں۔
انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو اور گرفتار افسران نے تاحال ان الزامات پر کوئی عوامی ردعمل نہیں دیا۔ حکام نے بھی ابھی تک مبینہ فون ٹیپنگ کے مقصد یا اس کے پس پردہ محرکات کی وضاحت نہیں کی۔
انڈونیشیا کے وزیر قانون یوسرل احزا مہندرا نے کہا ہے کہ تحقیقات کے دوران تینوں افسران کے خلاف بغاوت یا غداری کے شواہد نہیں ملے، تاہم صدر یا حکومتی وزرا کی نگرانی ایک سنگین معاملہ ہے۔
حکام کے مطابق ملزمان کو غیر قانونی طور پر نجی الیکٹرانک رابطوں کی نگرانی اور ڈیجیٹل معلومات میں ردوبدل یا انہیں حذف کرنے سے متعلق قانونی دفعات کے تحت کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان جرائم میں مختلف دفعات کے تحت 6 سے 10 سال تک قید کی سزائیں مقرر ہیں۔
