کراچی میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ 16 گھنٹے سے تجاوز، شہری شدید پریشان

کراچی (پاک ٹوڈے): شہر کے مختلف علاقوں میں طویل اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ متعدد علاقوں میں بجلی کی بندش کا دورانیہ 16 گھنٹے سے بھی تجاوز کر گیا ہے۔ کے الیکٹرک نے بجلی کی پیداوار متاثر ہونے کی وجہ بین الاقوامی سطح پر سپلائی میں خلل اور ری گیسیفائیڈ لیکویفائیڈ نیچرل گیس (آر ایل این جی) کی فراہمی میں رکاوٹ کو قرار دیا ہے۔

کراچی کے مختلف علاقوں میں اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ لیاری، ملیر، لانڈھی اور کورنگی کے رہائشیوں کی جانب سے طویل دورانیے کی بجلی بندش کی شکایات سامنے آئی ہیں، جبکہ اورنگی ٹاؤن، سرجانی ٹاؤن، قائدآباد، لائنز ایریا، نیو کراچی اور موسیٰ کالونی میں بھی شہری بجلی کی عدم فراہمی سے پریشان ہیں۔

اسی طرح ماڑی پور روڈ، مچھر کالونی اور ہاکس بے کے مختلف علاقوں میں بھی بجلی کی فراہمی متاثر ہونے کی اطلاعات ہیں۔ کئی کئی گھنٹے بجلی بند رہنے سے معمولات زندگی متاثر ہو رہے ہیں اور شہریوں کو مختلف مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

متاثرہ شہریوں کا کہنا ہے کہ بجلی کے بل باقاعدگی سے ادا کرنے کے باوجود انہیں لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ حاصل نہیں، جس کے باعث انہیں اضافی مشکلات برداشت کرنا پڑ رہی ہیں۔ دوسری جانب کے الیکٹرک کے ترجمان کے مطابق بجلی چوری اور بلوں کی عدم ادائیگی والے علاقوں میں لوڈشیڈنگ کی جاتی ہے۔

کے الیکٹرک کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک پر جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی سطح پر سپلائی میں خلل اور گیس کے کارگوز کی تاخیر کے باعث ملک بھر میں آر ایل این جی کی فراہمی متاثر ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں کے الیکٹرک سمیت بجلی پیدا کرنے والے اداروں کی پیداوار پر بھی اثر پڑ رہا ہے۔

کمپنی انتظامیہ کے مطابق موجودہ صورت حال میں اگر ناگزیر ہوا تو انتہائی آخری اقدام کے طور پر شام یا رات کے اوقات میں، جب بجلی کی طلب زیادہ ہوتی ہے، لوڈ مینجمنٹ کرنا پڑ سکتی ہے۔ تاہم، انتظامیہ کا کہنا ہے کہ دن کے اوقات میں بجلی کی فراہمی مستحکم رہے گی۔

شہر میں طویل لوڈشیڈنگ کے باعث شہریوں نے بجلی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانے اور غیر اعلانیہ بندش کے مسئلے کو حل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

Related posts

خیبرپختونخوا میں اغوا اور گرفتار پارلیمنٹیرینز کی تعداد 11 ہو گئی، 8 ایم پی اے اور 3 ایم این اے شامل

ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کے خلاف غیر موجودگی میں ٹرائل شروع، 3 گواہوں کے بیانات ریکارڈ

بامعنی سیاسی مذاکرات کے لیے تیار ہیں، تمام جماعتیں اختلافات بھلا کر بات چیت کریں، بیرسٹر گوہر