چکوال (پاک ٹوڈے): پاکستان انٹرنیشنل ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کی رکن اور افغان مہاجرین کی ترجمان فوزیہ خان نے ضلع چکوال میں افغان تاجروں کی دکانوں میں موجود قیمتی سامان کی مبینہ نیلامی پر شدید تشویش اور مذمت کا اظہار کرتے ہوئے اسے فوری طور پر معطل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق مقامی انتظامیہ کی جانب سے یہ متنازع نیلامی آج جمعہ کے روز مقرر کی گئی تھی، جسے انسانی حقوق اور بنیادی انصاف کے تقاضوں کی نفی قرار دیا جا رہا ہے۔
فوزیہ خان کا کہنا ہے کہ نیلامی کے لیے رکھا گیا یہ سامان ان افغان تاجروں کی حلال کمائی اور ملکیت ہے جنہیں گزشتہ برس جلدی میں پاکستان چھوڑنے پر مجبور کیا گیا تھا۔ انتظامیہ کی جانب سے اچانک بے دخلی کے باعث ان تاجروں کو اپنا کاروبار اور اثاثے سمیٹنے کے لیے مناسب وقت تک نہیں دیا گیا، جس کی وجہ سے کئی محنت کش تاجروں کا لاکھوں اور کروڑوں روپے مالیت کا سامان دکانوں ہی میں پھنس کر رہ گیا۔
انہوں نے انتظامی رویے پر سوال اٹھاتے ہوئے بتایا کہ ان متاثرہ تاجروں کو ماضی میں رسمی طور پر ویزے کے ذریعے واپس آ کر اپنا سامان اور کاروبار سنبھالنے کی یقین دہانیاں کرائی گئی تھیں۔ تاہم حکومت کی سخت ویزا پالیسیوں اور دفتری پیچیدگیوں کے باعث وہ وقت پر واپس نہ آ سکے، اور اب ان کی غیر موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کی املاک کو نلام کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے جو کہ انتہائی غصبانہ اور غیر منصفانہ اقدام ہے۔
فوزیہ خان نے ڈپٹی کمشنر چکوال، محترمہ سارہ حیات سے فوری اور ہنگامی مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس متنازع نیلامی کو فی الفور روکا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ متاثرہ افغان تاجروں کو اپنے اثاثوں کے تحفظ کے لیے جائز وقت فراہم کیا جائے، تمام سامان اور ملکیت کے دعووں کی شفاف قانونی جانچ پڑتال یقینی بنائی جائے، اور انہیں اپنا قانونی و اخلاقی موقف پیش کرنے کا مکمل موقع دیا جائے۔
