صنعا (پاک ٹوڈے): یمن میں بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی سیکیورٹی فورسز اور انصار اللہ (حوثی) ملیشیا کے درمیان تعز اور حدیدہ کے سرحدی حصوں میں خونریز جھڑپوں کا سلسلہ دوبارہ بھڑک اٹھا ہے۔ ذرائع کے مطابق گزشتہ ۴۸ گھنٹوں سے جاری اس شدید جنگ میں دونوں جانب سے ۱۰۰ سے زائد افراد کی ہلاکت کے ادعا سامنے آئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق، حوثی جنگجوؤں نے جمعرات کی صبح مغربی تعز کے علاقوں مقبانہ، موزعہ اور جبل حبشی پر ڈرونز اور بیلسٹک میزائلوں سے اچانک حملے شروع کیے۔ یمنی عسکری ذرائع کے مطابق حوثیوں نے کل ۱۴ بیلسٹک میزائل داغے اور تعز شہر کو اہم المخا (موکا) بندرگاہ سے ملانے والی سپلائی شاہراہ کو کاٹنے کی کوشش کی۔ تاہم حکومتی فوج نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے ۱۸ حوثی جنگجوؤں کو ہلاک اور متعدد کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ اس دوران ۱۳ حکومتی اہلکار بھی مارے گئے ہیں۔
علاقے میں شدت اختیار کرتی ہوئی اس فوجی پیش قدمی کے باعث جبل حبشی کے ارد گرد مقیم ۳۰۰ سے زائد خاندان ایک بار پھر محفوظ مقام کی جانب نقل مکانی پر مجبور ہو گئے ہیں۔ حوثی ذرائع کا موقف ہے کہ یہ کارروائی یمنی عوام کا سمندری محاصرہ توڑنے کی جدوجہد کا حصہ ہے، جبکہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ باب المندب اور بحیرہ احمر کی ساحلی پٹی کے قریب یہ پیش قدمی یمن میں ۲۰۲۲ سے قائم عارضی خاموشی اور امن کی کوششوں کو تباہ کر سکتی ہے۔
