اسلام آباد (پاک ٹوڈے): پمز ہسپتال میں انتظامی غفلت کے باعث 14 نومولود بچوں کی المناک ہلاکت پر بڑھتے ہوئے عوامی غم و غصے کو ٹھنڈا کرنے کے لیے وفاقی حکومت نے متاثرہ خاندانوں کو فی کس 50 لاکھ روپے دینے کا اعلان کیا ہے، جسے آزاد سیاسی و سماجی حلقوں نے حکومتی نااہلی پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش قرار دیا ہے۔
حکومتی اعلامیے میں اگرچہ یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ معاوضہ انسانی جانوں کا نعم البدل نہیں، مگر سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ ہر بڑے سانحے کے بعد محض مالی پیکج کا اعلان کر کے اصل ذمہ داروں کو بچانے کی روایت کب ختم ہو گی؟ نرسری جیسے حساس شعبے میں فائر سیفٹی، ایئر کنڈیشننگ کے ناقص نظام اور ہنگامی حفاظتی تدابیر کے فقدان پر ہسپتال انتظامیہ اور وزارتِ صحت کے خلاف مجرمانہ مقدمات درج کرنے کے بجائے مالی رقم کی پیشکش کو لواحقین زخموں پر نمک پاشی کے مترادف قرار دے رہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق حکومت کی جانب سے رقم کا اعلان پمز کی مسلسل انتظامی خرابیوں کا حل نہیں ہے۔ جاں بحق بچوں کے لواحقین کی جانب سے بغیر ڈی این اے کے میتوں کی حوالگی پر پہلے ہی شدید احتجاج سامنے آ چکا ہے، اور اب یہ سوال گونج رہا ہے کہ کیا صرف مالی مدد سے نظام کی اس مجرمانہ لاپرواہی کو معاف کر دیا جائے گا یا ذمہ داران کو واقعی تختہ دار پر لٹکایا جائے گا؟
