پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف مقدمات اور انصاف میں تاخیر پر تحفظات، اسد قیصر سمیت چار رہنماؤں کی ضمانت منظور

اسلام الدین ساجد

اسلام آباد (پاک ٹوڈے) ۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنماؤں نے اپنے خلاف قائم مقدمات اور عدالتی کارروائیوں میں تاخیر پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں عدالتوں سے انصاف نہیں مل رہا، جبکہ انسداد دہشت گردی عدالت نے پیر کو سابق قومی اسمبلی اسپیکر اسد قیصر سمیت چار رہنماؤں کو 26 نومبر کے احتجاج اور سپریم کورٹ کے باہر مظاہرے سے متعلق 22 مقدمات میں قبل از گرفتاری ضمانت دے دی۔

انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ابوالحسنات محمد ذوالقرنین نے اسد قیصر، عاطف خان، لطیف کھوسہ اور فیصل امین گنڈاپور کی نئی ضمانت کی درخواستوں پر سماعت کے بعد انہیں ریلیف دیا۔ عدالت نے چاروں رہنماؤں کو فی کس 5,000 روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کی۔

عدالتی حکم کے مطابق اسد قیصر کو نو مقدمات، عاطف خان کو چار، لطیف کھوسہ کو تین اور فیصل امین گنڈاپور کو چھ مقدمات میں ضمانت دی گئی۔

چند روز قبل عدالت نے مسلسل غیر حاضری کے باعث ان رہنماؤں کی ضمانت کی درخواستیں مسترد کر دی تھیں۔ بعد ازاں انہوں نے نئی درخواستیں دائر کیں، جنہیں وکلا کے دلائل سننے کے بعد منظور کر لیا گیا۔

سابق سپیکر قومی اسمبلی اور تحریک انصاف کے مرکزی رہنما اسد قیصر نے ایک حالیہ انٹرویو میں بتایا کہ اسلام آباد میں ان کے خلاف مجموعی طور پر 11 مقدمات درج ہیں، جن میں قتل، بغاوت اور دہشت گردی کے الزامات شامل ہیں۔ ان کے مطابق نو مقدمات میں ضمانت حاصل کر لی گئی ہے، جبکہ بعض مقدمات ختم ہو چکے ہیں اور دیگر زیر سماعت ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی ایک پُرامن سیاسی جماعت ہے اور اس کے رہنماؤں کو سیاسی سرگرمیوں کے باعث مقدمات کا سامنا ہے۔

پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ پارٹی کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف بھی تقریباً 200 مقدمات قائم کیے گئے ہیں۔ عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو مختلف مقدمات میں سزائیں بھی سنائی جا چکی ہیں۔

عمران خان اور دیگر رہنماؤں کے مقدمات

پی ٹی آئی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ عمران خان اور بشریٰ بی بی کی سزاؤں کے خلاف اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں اسلام آباد ہائیکورٹ میں سماعت کے لیے مقرر نہیں کی جا رہیں۔

پارٹی کے سیکرٹری جنرل بیرسٹر سلمان اکرم راجہ سمیت دیگر رہنماؤں نے بھی عدالتی کارروائیوں میں تاخیر پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

پی ٹی آئی کے مطابق سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، ڈاکٹر یاسمین راشد، سینیٹر اعجاز چوہدری اور میاں محمود الرشید سمیت متعدد اہم رہنما جیلوں میں ہیں، جبکہ سینکڑوں کارکن بھی زیر حراست ہیں۔

پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ احتجاج اور سیاسی سرگرمیوں کے آئینی حق کے لیے متعدد بار سپریم کورٹ اور ہائیکورٹس سے رجوع کر چکے ہیں، لیکن انہیں مؤثر ریلیف نہیں مل رہا۔

عمران خان اور بشریٰ بی بی سے ملاقات کی درخواست

دریں اثنا، اسلام آباد ہائیکورٹ نے قومی مذاکراتی کمیٹی (این ڈی سی) کے ارکان کی جانب سے عمران خان اور بشریٰ بی بی سے اڈیالہ جیل میں ملاقات کی اجازت دینے سے متعلق درخواست 5 نومبر کو سماعت کے لیے مقرر کر دی ہے۔

پی ٹی آئی کا یہ بھی کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے گزشتہ ماہ عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے، طبی علاج فراہم کرنے، اہل خانہ سے ہفتہ وار ملاقات اور بچوں سے فون پر بات کرنے کی سہولت دینے کا حکم دیا تھا، تاہم ان احکامات پر مکمل عمل درآمد نہیں ہوا۔ پارٹی نے اس معاملے پر توہین عدالت کی درخواست بھی دائر کی ہے۔

حکومت کا موقف

حکومتی وزراء ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ عمران خان کو سرکاری اسپتال میں بہترین طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں اور ان کے علاج کے لیے لندن سے بھی ڈاکٹر بلایا گیا تھا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ عمران خان اور دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں اور عدلیہ آزادانہ طور پر فیصلے کرتی ہے۔

پاکستان میں پی ٹی آئی اور حکومت کے درمیان سیاسی کشیدگی برقرار ہے، جبکہ پارٹی رہنماؤں کے خلاف مقدمات، گرفتاریوں اور عدالتی کارروائیوں میں تاخیر ملکی سیاست کے اہم تنازعات میں شامل ہیں۔

Related posts

بلومبرگ کا پاکستان کی معیشت پر تجزیہ: معاشی استحکام تو آیا، مگر پائیدار ترقی کا خواب ابھی ادھورا

امریکی وسط مدتی انتخابات: ٹرمپ کی مقبولیت کا امتحان، ڈیموکریٹس کی واپسی کے امکانات، ایران جنگ بھی اہم انتخابی موضوع

یوکرین کے علاقے زاپوریژیا میں روسی حملے، کم از کم 26 افراد ہلاک