امریکی وسط مدتی انتخابات: ٹرمپ کی مقبولیت کا امتحان، ڈیموکریٹس کی واپسی کے امکانات، ایران جنگ بھی اہم انتخابی موضوع

ریاض حسین

امریکہ میں آج ہونے والے وسط مدتی انتخابات صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی ریپبلکن پارٹی کے لیے ایک بڑا سیاسی امتحان بن گئے ہیں۔ تازہ انتخابی سروے میں ڈیموکریٹک پارٹی کو قومی سطح پر آٹھ پوائنٹس کی برتری حاصل ہے، جبکہ انتخابی پیش گوئیوں کے مطابق ڈیموکریٹس کے ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کرنے کے امکانات مضبوط دکھائی دیتے ہیں۔

انتخابات میں ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 اور سینیٹ کی 100 میں سے 35 نشستوں پر ووٹنگ ہوگی۔ اس کے علاوہ 36 ریاستوں میں گورنرز اور ریاستی قانون ساز اداروں کے انتخابات بھی ہوں گے۔

انتخابی مہم میں مہنگائی، روزگار، امیگریشن، ٹرمپ انتظامیہ کی خارجہ پالیسی اور ایران کے ساتھ جاری جنگ اہم موضوعات رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق ان انتخابات کے نتائج نہ صرف ٹرمپ کی باقی ماندہ مدتِ صدارت بلکہ امریکہ کی داخلی اور خارجہ پالیسی پر بھی اثرانداز ہو سکتے ہیں۔

ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی، ڈیموکریٹس کو آٹھ پوائنٹس کی برتری

رائٹرز اور اپِسوس کے 2 نومبر کو جاری کردہ تازہ سروے کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کارکردگی کی منظوری کی شرح 32 فیصد تک گر گئی ہے، جو ان کی صدارت کے دوران ریکارڈ کی جانے والی کم ترین شرح کے قریب ہے۔

سروے میں کانگریس کے انتخابات کے حوالے سے 46 فیصد رجسٹرڈ ووٹرز نے ڈیموکریٹس، جبکہ 38 فیصد نے ریپبلکنز کی حمایت کی۔ اس طرح ڈیموکریٹس کو آٹھ پوائنٹس کی برتری حاصل ہوئی۔

سروے کے مطابق 78 فیصد امریکیوں نے بڑھتے ہوئے اخراجاتِ زندگی کو انتخابی فیصلے کے لیے انتہائی اہم مسئلہ قرار دیا۔ مہنگائی سے نمٹنے کی صلاحیت کے حوالے سے بھی 43 فیصد افراد نے ڈیموکریٹس پر اعتماد کا اظہار کیا، جبکہ ریپبلکنز کے حق میں یہ شرح 32 فیصد رہی۔

یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ کی معاشی کارکردگی اور مہنگائی پر قابو پانے کی صلاحیت انتخابی مقابلے میں اہم عوامل بن چکے ہیں۔

کانگریس میں اکثریت کا مقابلہ: ریپبلکنز کو سخت چیلنج

امریکی کانگریس دو ایوانوں، ایوانِ نمائندگان اور سینیٹ، پر مشتمل ہے۔ اس وقت دونوں ایوانوں میں ریپبلکن پارٹی کو اکثریت حاصل ہے، تاہم ایوانِ نمائندگان میں اس کی برتری انتہائی معمولی ہے۔

واشنگٹن میں مقیم سینئر صحافی بختاور شاہ کے مطابق، ایوانِ نمائندگان میں ریپبلکن پارٹی کے 218 جبکہ ڈیموکریٹس کے 214 ارکان ہیں، دو نشستیں خالی ہیں اور ایک آزاد رکن بھی ریپبلکنز کے ساتھ ووٹ دیتا ہے۔ اس صورتِ حال میں چند نشستوں کی تبدیلی بھی ایوان کا سیاسی توازن تبدیل کر سکتی ہے۔

سینیٹ کے حوالے سے بختاور شاہ نے بتایا کہ 100 رکنی ایوانِ بالا میں ریپبلکنز کے 53 اور ڈیموکریٹس کے 45 ارکان ہیں، جبکہ دو آزاد سینیٹرز عموماً ڈیموکریٹس کے ساتھ ووٹ دیتے ہیں۔

ان کے مطابق، سیاسی مبصرین کے نزدیک ریپبلکن پارٹی کے لیے دونوں ایوانوں میں اپنی اکثریت برقرار رکھنا آسان نہیں ہوگا۔

دوسری جانب، پولنگ فورکاسٹ کے انتخابی ماڈل میں ڈیموکریٹس کے ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کرنے کے امکانات تقریباً 90 فیصد، جبکہ سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنے کے امکانات 82 فیصد ظاہر کیے گئے ہیں۔ تاہم، یہ انتخابی پیش گوئیاں ہیں، حتمی نتائج نہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں سے عوامی بے اطمینانی

واشنگٹن میں مقیم سینئر صحافی بختاور شاہ کا کہنا ہے کہ موجودہ وسط مدتی انتخابات غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں کیونکہ امریکی عوام کا ایک بڑا حصہ صدر ٹرمپ کی پالیسیوں سے مطمئن دکھائی نہیں دیتا۔

ان کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ کی معاشی پالیسیوں، دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات، خارجہ حکمتِ عملی اور امیگریشن سے متعلق اقدامات پر عوامی سطح پر تحفظات موجود ہیں۔

بختاور شاہ کے مطابق، ڈیموکریٹک پارٹی کی کوشش ہے کہ کانگریس میں ریپبلکنز کی معمولی اکثریت ختم کرکے دوبارہ اپنی سیاسی برتری قائم کی جائے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر ڈیموکریٹس کانگریس کے کسی ایک یا دونوں ایوانوں میں اکثریت حاصل کر لیتے ہیں تو صدر ٹرمپ کے لیے اپنی پالیسیوں پر عمل درآمد اور اہم فیصلوں کی منظوری حاصل کرنا زیادہ مشکل ہو سکتا ہے۔

ایران جنگ: انتخابات کا اہم سیاسی اور معاشی موضوع

ایران کے ساتھ جاری جنگ بھی امریکی انتخابات میں اہم موضوع رہی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری 2026 کو ایران کے خلاف شروع کی گئی فوجی کارروائیوں کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھی، جبکہ عالمی توانائی کی منڈیوں اور تیل کی قیمتوں پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوئے۔

رائٹرز کے اگست میں شائع ہونے والے ایک سروے کے مطابق، اس وقت 31 فیصد امریکیوں نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں کی حمایت، جبکہ 63 فیصد نے مخالفت کی تھی۔
بختاور شاہ کے مطابق، ایران جنگ سمیت خارجہ پالیسی کے اہم معاملات پر کانگریس میں اتفاقِ رائے اور آئینی اختیارات کی حدود اہمیت رکھتی ہیں۔ اگر ڈیموکریٹس کو اکثریت حاصل ہوتی ہے تو ٹرمپ انتظامیہ کو فوجی کارروائیوں، ان کے اخراجات اور جنگ سے متعلق فیصلوں پر زیادہ سیاسی دباؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

تاہم، کانگریس میں جماعتی اکثریت کی تبدیلی کا مطلب یہ نہیں کہ صدر کے تمام صدارتی اور فوجی اختیارات ختم ہو جائیں گے۔

ایران کے ساتھ سفارتی رابطے اور تیل کی قیمتیں

ایران جنگ کے تناظر میں قطر کے ذریعے سفارتی کوششیں بھی اہمیت اختیار کر چکی ہیں۔

رائٹرز کی 2 نومبر کی رپورٹ کے مطابق، ایران اور قطر کے حکام کے درمیان جنگ ختم کرنے کے لیے سفارتی رابطے ہوئے، جبکہ مجوزہ معاہدے کی دستاویز پر پیش رفت کے امکانات بھی زیرِ بحث آئے۔

ان رابطوں کی خبروں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔ برینٹ خام تیل کی قیمت 7.47 فیصد کمی کے بعد تقریباً 104.96 ڈالر فی بیرل، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ کی قیمت 7.2 فیصد کمی کے بعد تقریباً 96.62 ڈالر فی بیرل رہی۔

یہ پیش رفت ظاہر کرتی ہے کہ ایران جنگ کا مستقبل نہ صرف امریکی سیاست بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں کے لیے بھی اہم ہے۔

ڈیموکریٹس کی کامیابی ٹرمپ کے لیے کیا مشکلات پیدا کر سکتی ہے؟

اگر ڈیموکریٹس ایوانِ نمائندگان میں اکثریت حاصل کر لیتے ہیں تو وہ اہم پارلیمانی کمیٹیوں کی سربراہی سنبھال سکتے ہیں اور ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں، سرکاری اخراجات اور ایران جنگ کے حوالے سے تحقیقات اور سماعتیں کر سکتے ہیں۔

اگر انہیں دونوں ایوانوں میں اکثریت مل جاتی ہے تو قانون سازی، بجٹ اور دفاعی اخراجات کے معاملات میں بھی ان کا اثر و رسوخ بڑھ جائے گا۔

بختاور شاہ کے مطابق، ایسی صورتِ حال میں صدر ٹرمپ کے لیے کانگریس کو نظرانداز کرکے اہم پالیسی فیصلوں پر عمل درآمد کرنا آسان نہیں ہوگا۔

تاہم، آئینی طور پر صدر کے اختیارات برقرار رہیں گے اور کانگریس میں اکثریت کھونے کے باوجود ٹرمپ اپنی صدارتی مدت مکمل کر سکتے ہیں۔

کیا ٹرمپ کو مواخذے کا سامنا ہو سکتا ہے؟

ڈیموکریٹس کی کامیابی کی صورت میں صدر ٹرمپ کے خلاف تحقیقات اور مواخذے کے مطالبات بھی زور پکڑ سکتے ہیں، خصوصاً ایران جنگ اور انتظامیہ کے بعض متنازع فیصلوں کے حوالے سے۔

امریکی آئین کے تحت ایوانِ نمائندگان صدر کے خلاف مواخذے کی منظوری دے سکتا ہے، تاہم انہیں عہدے سے ہٹانے کے لیے سینیٹ میں دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔

اس لیے ڈیموکریٹس کی کامیابی سے ٹرمپ پر سیاسی دباؤ بڑھ سکتا ہے، لیکن ان کی برطرفی یا مواخذے کو یقینی قرار نہیں دیا جا سکتا۔

پاکستان اور خطے پر ممکنہ اثرات

امریکی انتخابات کے نتائج پاکستان کے لیے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔ ایران جنگ کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے یا کمی کا براہِ راست اثر پاکستان کی معیشت، درآمدی بل، مہنگائی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات پر پڑ سکتا ہے۔

اگر ایران اور امریکہ کے درمیان سفارتی کوششیں کامیاب ہوتی ہیں اور جنگ بندی ممکن ہو جاتی ہے تو عالمی توانائی کی منڈیوں میں استحکام پیدا ہو سکتا ہے، جس سے پاکستان سمیت تیل درآمد کرنے والے ممالک کو فائدہ پہنچنے کا امکان ہے۔

اس کے علاوہ، واشنگٹن اور اسلام آباد کے تعلقات میں دہشت گردی کے خلاف تعاون، افغانستان کی صورتِ حال، علاقائی سلامتی اور جوہری معاملات اہم رہ سکتے ہیں۔

تاہم، امریکی کانگریس میں جماعتی اکثریت کی تبدیلی کو پاکستان کے لیے واشنگٹن کی پالیسی میں فوری تبدیلی کے مترادف قرار نہیں دیا جا سکتا۔

اگلے دو سال اور 2028 کے صدارتی انتخابات

وسط مدتی انتخابات کے نتائج صدر ٹرمپ کی باقی ماندہ مدتِ صدارت کے سیاسی ماحول کا تعین کریں گے۔ نئی کانگریس جنوری 2027 میں اپنا کام شروع کرے گی، جس کے بعد بجٹ، دفاعی اخراجات، ایران پالیسی اور داخلی معاشی معاملات پر دونوں جماعتوں کے درمیان اختلافات بڑھ سکتے ہیں۔

اگر ڈیموکریٹس کامیاب ہوتے ہیں تو اسے ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کے خلاف عوامی ردعمل کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے، جبکہ ریپبلکنز کی کامیابی صدر ٹرمپ کے لیے اپنی سیاسی پوزیشن مزید مضبوط کرنے کا موقع ہوگی۔

یہ انتخابات 2028 کے صدارتی مقابلے کے لیے بھی دونوں جماعتوں کی سیاسی حکمتِ عملی اور عوامی حمایت کا ایک اہم اشارہ ثابت ہو سکتے ہیں۔

Related posts

بلومبرگ کا پاکستان کی معیشت پر تجزیہ: معاشی استحکام تو آیا، مگر پائیدار ترقی کا خواب ابھی ادھورا

پی ٹی آئی رہنماؤں کے خلاف مقدمات اور انصاف میں تاخیر پر تحفظات، اسد قیصر سمیت چار رہنماؤں کی ضمانت منظور

یوکرین کے علاقے زاپوریژیا میں روسی حملے، کم از کم 26 افراد ہلاک