ریاض حسین
اسلام آباد: عالمی مالیاتی خبر رساں ادارے بلومبرگ نے پاکستان کی معیشت میں حالیہ بہتری کا جائزہ لیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ معاشی استحکام کے مثبت اشاریوں کے باوجود ملک کو کئی بنیادی مسائل کا سامنا ہے، جو پائیدار ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔ اسٹاک مارکیٹ میں غیر معمولی تیزی، زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ، روپے کا استحکام اور عالمی مالیاتی اداروں کے اعتماد میں بہتری کے باوجود قرضوں پر انحصار، مہنگائی، توانائی کی بلند قیمتیں، کمزور برآمدات اور سیاسی بے یقینی پاکستان کے معاشی مستقبل کے لیے بڑے چیلنج ہیں۔
بلومبرگ کی 3 نومبر 2026 کی رپورٹ کا بنیادی نکتہ یہ ہے کہ پاکستان نے فوری معاشی بحران سے نکلنے میں پیش رفت ضرور کی ہے، تاہم اس بہتری کو ابھی حقیقی اور پائیدار معاشی ترقی قرار نہیں دیا جا سکتا۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر تقریباً 21.5 ارب ڈالر تک پہنچ چکے ہیں، جبکہ اسٹاک مارکیٹ میں نمایاں تیزی، روپے کی قدر میں استحکام اور عالمی کریڈٹ ریٹنگ اداروں کے بہتر جائزوں نے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے۔ اس کے علاوہ عالمی مالیاتی منڈیوں سے چار ارب ڈالر سے زیادہ حاصل کرنے اور آئی ایم ایف کے ساتھ نئے اسٹاف لیول معاہدے کو بھی معاشی استحکام کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا گیا ہے۔
تاہم بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا یہ بہتری ملکی معیشت کی پیداواری صلاحیت میں اضافے کا نتیجہ ہے یا بیرونی قرضوں، مالیاتی معاونت اور درآمدات پر کنٹرول کے ذریعے حاصل ہونے والا عارضی استحکام؟
معاشی استحکام اور حقیقی ترقی میں فرق
پاکستان کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو ایک واضح تضاد سامنے آتا ہے۔ ایک طرف مالیاتی اشاریے بہتر ہو رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب عام شہری مہنگائی، کم ہوتی قوت خرید، مہنگی بجلی، بے روزگاری اور محدود کاروباری مواقع سے پریشان ہے۔
زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ، روپے کا استحکام اور اسٹاک مارکیٹ کی تیزی یقیناً مثبت پیش رفت ہیں، لیکن ان سے خودبخود عام شہری کی آمدنی، روزگار، صنعتی پیداوار یا معیارِ زندگی بہتر نہیں ہوتا۔
حقیقی معاشی ترقی اس وقت ممکن ہوتی ہے جب ملک میں پیداوار بڑھے، نئی صنعتیں قائم ہوں، برآمدات میں اضافہ ہو، سرمایہ کاری آئے اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں۔ پاکستان کے لیے اصل چیلنج مالیاتی استحکام کو پیداواری معیشت کی مضبوطی میں تبدیل کرنا ہے۔
اسٹاک مارکیٹ میں تیزی، مگر عام شہری کو کتنا فائدہ؟
بلومبرگ کے مطابق 2023 کے بعد سے پاکستان کا KSE-100 انڈیکس 300 فیصد سے زیادہ بڑھ چکا ہے۔ یہ سرمایہ کاروں کے اعتماد اور مالیاتی منڈی میں بہتری کا اہم اشارہ ہے، لیکن اسٹاک مارکیٹ کی تیزی کو پوری معیشت یا عام شہری کی خوشحالی کا پیمانہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ رکھنے والے افراد اور ادارے اس اضافے سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں، تاہم ملک کی بڑی آبادی براہِ راست اس سرمایہ کاری کا حصہ نہیں۔ اگر حصص کی قیمتیں بڑھ رہی ہوں لیکن تنخواہ دار طبقے کی حقیقی آمدنی کم ہو رہی ہو اور اشیائے ضروریہ کی قیمتیں بلند رہیں تو اسے جامع معاشی خوشحالی نہیں کہا جا سکتا۔
اس لیے پاکستان کی معاشی کارکردگی کا جائزہ لیتے وقت اسٹاک مارکیٹ کے ساتھ فی کس آمدنی، حقیقی اجرت، غربت، روزگار اور صنعتی پیداوار کے اعداد و شمار کو بھی اہمیت دینا ضروری ہے۔
قرضوں پر انحصار اور معاشی استحکام کی پائیداری
پاکستان کی معیشت کا ایک بڑا مسئلہ بیرونی قرضوں اور مالیاتی معاونت پر مسلسل انحصار ہے۔ بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان اب تک آئی ایم ایف کے تقریباً 25 پروگراموں کا حصہ بن چکا ہے، جبکہ گزشتہ کئی دہائیوں میں متعدد مرتبہ مالیاتی بحران کے دوران عالمی مالیاتی ادارے سے رجوع کرنا پڑا۔
موجودہ آئی ایم ایف پروگرام 2027 میں ختم ہونے کے بعد بھی نئے مالیاتی پروگرام یا بیرونی معاونت کی ضرورت کا خدشہ موجود ہے۔
زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ اہم ہے، لیکن ان کی پائیداری کا انحصار برآمدات، ترسیلاتِ زر، براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری اور دیگر مستقل ڈالر آمدن کے ذرائع پر ہے۔ اگر ذخائر کا بڑا حصہ قرضوں، دوست ممالک کے ڈپازٹس یا عارضی مالیاتی انتظامات سے حاصل ہو تو بیرونی ادائیگیوں کا دباؤ دوبارہ پیدا ہو سکتا ہے۔
پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ قرضوں کے ذریعے بحران سے نکلنے کے بجائے اپنی آمدنی اور برآمدی صلاحیت میں مستقل اضافہ کرے۔
مہنگائی، ایران جنگ اور توانائی کی قیمتوں کا دباؤ بلومبرگ کے تجزیے میں عالمی توانائی منڈی کی صورتحال کو بھی پاکستان کی معاشی بحالی کے لیے خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ ایران جنگ اور تیل کی قیمتوں میں اضافے سے پاکستان جیسے درآمدی توانائی پر انحصار کرنے والے ملک کا درآمدی بل بڑھ سکتا ہے، جس کے اثرات بجلی، ٹرانسپورٹ، صنعت اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں پر پڑتے ہیں۔
اسٹیٹ بینک کی جانب سے شرحِ سود میں 50 بیسس پوائنٹس اضافے کے بعد اسے 12 فیصد تک پہنچانا بھی معاشی پالیسی کے حوالے سے اہم پیش رفت ہے۔ بلند شرحِ سود مہنگائی کو قابو کرنے میں مدد دے سکتی ہے، لیکن اس کے نتیجے میں کاروباری قرضے مہنگے، سرمایہ کاری محدود اور صنعتی سرگرمیاں سست ہو سکتی ہیں۔
حکومت اور مرکزی بینک کے لیے اصل چیلنج مہنگائی پر قابو پانے اور معاشی ترقی کی رفتار برقرار رکھنے کے درمیان توازن پیدا کرنا ہے۔
برآمدات میں اضافہ، معاشی خودمختاری کی بنیادی شرط
پاکستان کی معیشت کی سب سے بڑی کمزوری محدود برآمدی بنیاد اور درآمدات پر انحصار ہے۔ ٹیکسٹائل کے علاوہ آئی ٹی، زرعی مصنوعات، معدنیات، ادویات، انجینئرنگ اور ویلیو ایڈڈ مصنوعات میں برآمدات بڑھانے کی وسیع گنجائش موجود ہے۔
تاہم مہنگی بجلی، بلند ٹیکس، مہنگے قرضے، پالیسیوں میں بار بار تبدیلی اور انتظامی رکاوٹیں مقامی صنعت کی عالمی مسابقت کو متاثر کرتی ہیں۔
اگر پاکستان برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہیں کرتا تو معاشی ترقی کے ساتھ درآمدات بھی بڑھیں گی، جس سے ایک مرتبہ پھر زرمبادلہ پر دباؤ اور بیرونی ادائیگیوں کا بحران پیدا ہو سکتا ہے۔ اس لیے برآمدات میں تنوع، صنعتی جدیدکاری، زرعی پیداوار میں اضافہ اور نئی ٹیکنالوجی کا استعمال معاشی پالیسی کی بنیادی ترجیحات ہونی چاہییں۔
ٹیکس کا نظام اور معاشی ناہمواری
پاکستان میں ٹیکس نظام کا ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ دستاویزی معیشت کا حصہ بننے والے تنخواہ دار اور کاروباری طبقات پر ٹیکس کا بوجھ بڑھتا رہتا ہے، جبکہ وسیع غیر رسمی معیشت اور بعض بااثر شعبوں سے ٹیکس وصولی کی صلاحیت محدود ہے۔
حکومت کو ٹیکس نیٹ وسیع کرنے، ٹیکس چوری روکنے، غیر ضروری مراعات ختم کرنے اور ٹیکس نظام کو آسان اور منصفانہ بنانے کی ضرورت ہے۔ موجودہ ٹیکس دہندگان پر بار بار اضافی بوجھ ڈالنے کے بجائے ایسے شعبوں کو بھی ٹیکس نظام میں لانا ہوگا جو اپنی معاشی استعداد کے مطابق ٹیکس ادا نہیں کر رہے۔
توانائی کا بحران اور صنعتی مسابقت
بجلی اور گیس کی بلند قیمتیں پاکستان کی صنعتی ترقی کے لیے ایک بڑی رکاوٹ ہیں۔ مہنگی توانائی سے پیداواری لاگت بڑھتی ہے، مقامی مصنوعات عالمی منڈی میں مہنگی ہو جاتی ہیں اور برآمدی صنعت کی مسابقت متاثر ہوتی ہے۔
گردشی قرضے، بجلی کی ترسیل و تقسیم کے نقصانات، بجلی چوری اور انتظامی کمزوریاں ایسے مسائل ہیں جن کا مستقل حل ضروری ہے۔ صرف بجلی کے نرخ بڑھانے سے توانائی کا بحران ختم نہیں ہوگا۔ اس کے لیے نظام کی کارکردگی بہتر بنانے، نقصانات کم کرنے، متبادل توانائی کے ذرائع اور صنعتی صارفین کے لیے قابلِ پیش گوئی توانائی پالیسی کی ضرورت ہے۔
سیاسی عدم استحکام اور سکیورٹی کے اثرات
بلومبرگ کے تجزیے میں سیاسی کشیدگی اور سکیورٹی صورتحال کو بھی سرمایہ کاری کے لیے اہم خطرات میں شمار کیا گیا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان محاذ آرائی، سیاسی غیر یقینی، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں تشدد کے واقعات اور امن و امان کے مسائل سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کر سکتے ہیں۔
سرمایہ کار کسی ملک میں سرمایہ لگانے سے پہلے سیاسی استحکام، قانونی تحفظ اور پالیسیوں کے تسلسل کو اہمیت دیتے ہیں۔ پاکستان میں حکومتوں کی تبدیلی کے ساتھ معاشی پالیسیوں میں بار بار ردوبدل طویل مدتی سرمایہ کاری کے لیے مشکلات پیدا کرتا ہے۔
معاشی اصلاحات کو کامیاب بنانے کے لیے سیاسی جماعتوں کے درمیان بنیادی معاشی معاملات پر اتفاقِ رائے بھی ضروری ہے۔
نوجوان آبادی، تعلیم اور روزگار کا چیلنج
پاکستان کی بڑی نوجوان آبادی معاشی ترقی کا ایک اہم موقع ہے، لیکن یہ موقع اسی وقت فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے جب نوجوانوں کو معیاری تعلیم، فنی تربیت، جدید ٹیکنالوجی اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں۔
اگر معیشت ہر سال روزگار کی منڈی میں داخل ہونے والے نوجوانوں کے لیے مناسب ملازمتیں پیدا نہیں کر سکتی تو بے روزگاری اور معاشی ناہمواری میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ اسی طرح خواتین کی معاشی سرگرمیوں میں شرکت بڑھانا بھی قومی پیداوار اور آمدنی میں اضافے کے لیے اہم ہے۔
معاشی ماہرین کی رائے: استحکام کو ترقی میں تبدیل کرنا ہوگا
معاشی ماہر فدا حسین کے مطابق پاکستان کی معیشت کا ایک بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ حکومتیں اکثر معاشی استحکام کو ہی معاشی ترقی سمجھ لیتی ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ، روپے کی قدر میں استحکام اور اسٹاک مارکیٹ میں تیزی یقیناً مثبت اشارے ہیں، لیکن ان سے خودبخود صنعتی پیداوار، روزگار، فی کس آمدنی یا عام شہری کے معیارِ زندگی میں بہتری نہیں آتی۔
فدا حسین کے مطابق حقیقی معاشی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب ملک میں اشیا اور خدمات کی پیداوار بڑھے، برآمدات میں اضافہ ہو، نئی صنعتیں قائم ہوں اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ ملے۔ ان کے بقول پاکستان کا اصل چیلنج مالیاتی اشاریوں کی بہتری کو پیداواری معیشت کی مضبوطی میں تبدیل کرنا ہے۔
پاکستان کے لیے اگلا معاشی مرحلہ
پاکستان کو اب صرف آئی ایم ایف پروگرام کی شرائط پوری کرنے، بجٹ خسارہ کم کرنے اور زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے تک اپنی معاشی کامیابی محدود نہیں رکھنی چاہیے۔ اگلے مرحلے میں برآمدات، صنعتی پیداوار، زرعی جدیدکاری، انسانی وسائل، ٹیکنالوجی اور روزگار کو مرکزی حیثیت دینا ہوگی۔
معاشی کارکردگی کا اصل پیمانہ یہ ہونا چاہیے کہ عام شہری کی حقیقی آمدنی میں کتنا اضافہ ہوا، غربت میں کتنی کمی آئی، کتنے نئے روزگار پیدا ہوئے، صنعتوں نے کتنی پیداوار بڑھائی اور ملک نے مستقل زرمبادلہ کے کتنے ذرائع پیدا کیے۔