اسلام آباد (پاک ٹوڈے): پاکستان پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے ریلیف اسکیم کے طریقہ کار پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے پٹرول دینے سے انکار کر دیا۔
وائس چیئرمین پی پی ڈی اے انوار کمال نے کہا کہ ریلیف اسکیم کے موجودہ طریقہ کار پر عمل درآمد مشکل ہے، عوام کو براہ راست اور آسان طریقے سے ریلیف دیا جائے۔ انوار کمال نے کہا کہ ریلیف اسکیم کا مالی بوجھ ڈیلرز پر ڈالنا قابلِ عمل نہیں، حکومت سستے پٹرول کی رقم ڈیلرز کو کیسے ادا کرے گی؟ سبسڈی شدہ رقم کی ادائیگی کے طریقے کی وضاحت تک ڈیلرز فیول اسکیم کا حصہ نہیں بنیں گے، اگر زبردستی کی گئی تو پٹرول پمپ بند کر دیں گے۔
دوسری جانب پٹرول پمپ مالکان نے بھی حکومت کی 100 روپے فی لیٹر سبسڈی کے طریقہ کار پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔ چیئرمین آل پاکستان پٹرول پمپ اونرز ایسوسی ایشن ہمایوں خان کا کہنا ہے کہ پمپ مالکان کو سبسڈی کے طریقہ کار کے بارے میں واضح معلومات نہیں دی گئیں، جس سے پمپ مالکان اور صارفین کے درمیان مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری نعمان بٹ نے بھی کہا کہ حکومت نے سبسڈی کا اعلان تو کر دیا لیکن پمپ مالکان کو یہ رقم واپس کیسے ملے گی اس بارے میں وضاحت نہیں کی گئی۔
حکومت کے مطابق موٹرسائیکل، رکشہ اور 800 سی سی تک گاڑیوں کے لیے فی لیٹر 100 روپے ریلیف دیا جائے گا، اسلام آباد میں اس کا آغاز ہو چکا ہے اور ملک بھر میں مرحلہ وار توسیع کی جا رہی ہے۔