اسلام آباد(پاک ٹوڈے): پاکستانیوں کی اکثریت ملک کے تعلیمی نظام سے غیر مطمئن ہے اور اسے جدید معیشت اور دورِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق نہیں سمجھتی۔
انسٹی ٹیوٹ فار پبلک اوپینین ریسرچ (آئی پی او آر) کے نئے قومی سِٹیزن سروے 2026 کے نتائج کے مطابق 60 فیصد پاکستانی ملکی تعلیمی نظام کو جدید معیشت کی ضروریات پورا کرنے سے قاصر قرار دیتے ہیں جبکہ صرف 35 فیصد نے اس پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔
یہ سروے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈیولپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی (پِلڈات) کنسلٹنگ کے تعاون سے جاری کیا گیا۔ سروے میں 23 اگست سے 5 ستمبر 2026 تک ملک بھر میں 5,155 ووٹنگ عمر کے شہریوں سے روبرو انٹرویوز کیے گئے۔ نمونے میں چاروں صوبوں کی نمائندگی یقینی بنائی گئی، جس میں 60 فیصد دیہی اور 40 فیصد شہری علاقوں کے افراد شامل تھے جبکہ مختلف عمر، جنس اور آمدنی کے گروپس کو بھی مدنظر رکھا گیا۔
یہ پاکستان کا پہلا قومی سروے ہے جو شہریوں کی ترجیحات اور سرکاری وسائل کی تقسیم کے درمیان فرق کو ناپنے کے لیے مخصوص طور پر ڈیزائن کیا گیا تھا۔
تعلیمی نظام کے مسائل کے حوالے سے سروے کے تفصیلی نتائج بتاتے ہیں کہ 29 فیصد جواب دہندگان نے کمرشلائزیشن اور بھاری فیسوں کو بنیادی وجہ قرار دیا۔
19 فیصد نے ناقص معیارِ تعلیم، 15 فیصد نے تعلیم تک رسائی میں مشکلات اور 14 فیصد نے ناقص امتحانی نظام کو اہم مسائل میں شمار کیا۔ مزید برآں 11 فیصد نے فنی اور پیشہ ورانہ تعلیم کی کمی جبکہ 9 فیصد نے سیاسی مداخلت کو تعلیمی نظام کے زوال کی وجہ بتایا۔
سروے کے وسیع تر نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوام کی ترجیحات اور بجٹ کی ترجیحات میں واضح فرق موجود ہے۔ وفاقی بجٹ کا بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی پر خرچ ہو رہا ہے جبکہ تعلیم اور صحت جیسے اہم شعبوں پر وسائل کی کمی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نتائج تمام صوبوں، دیہی و شہری علاقوں اور مختلف سماجی طبقات میں یکساں طور پر سامنے آئے ہیں، جو مسئلے کی گہرائی کو ظاہر کرتے ہیں۔