لاہور (پاک ٹوڈے): امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے پیٹرولیم لیوی ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کا ایجنڈا لیوی کا خاتمہ نہیں تو ملاقات کی کوئی ضرورت نہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ مطالبہ تسلیم نہ ہونے کی صورت میں وزیراعظم سے ملاقات ایوانوں کے بجائے سڑکوں پر ہوگی۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ دو روز بعد اجلاس کے بعد جماعت اسلامی کے لانگ مارچ کا دوبارہ آغاز ملتان سے کیا جائے گا، جس کے بعد مختلف سمتوں سے اسلام آباد کی جانب پیش قدمی کی جائے گی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ پیٹرولیم لیوی کے خلاف جماعت اسلامی کل اوکاڑہ میں جلسہ بھی کرے گی۔
حافظ نعیم الرحمن کا کہنا تھا کہ جب پیٹرولیم لیوی ختم کرنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو حکومت اسے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی اجازت سے مشروط کردیتی ہے، حالانکہ ان کے بقول لیوی کے خاتمے کا آئی ایم ایف سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حکومت احتجاج اور انتشار چاہتی ہے، تاہم جماعت اسلامی ایسا کوئی اقدام نہیں کرے گی جس سے حالات خراب ہوں۔
امیر جماعت اسلامی نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک طرف پیٹرولیم لیوی ختم کرنے کے معاملے پر آئی ایم ایف کی اجازت کا جواز پیش کیا جاتا ہے، جبکہ دوسری طرف سماجی بہبود کے پروگرام جاری رہتے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان پروگراموں کے فنڈز میں کرپشن ہوتی ہے اور حکومت کے پاس غربت کے خاتمے کے لیے مؤثر منصوبہ نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں غربت بڑھ رہی ہے، جبکہ ملک میں سیاسی بے یقینی اور افراتفری کی صورتحال ہے۔ ان کے مطابق گورنر راج یا ایمرجنسی کے نفاذ سے متعلق باتیں قابل قبول نہیں ہیں۔
حافظ نعیم الرحمن نے سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان سمیت کسی بھی شخص کو سیاسی بنیادوں پر قید نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے عمران خان کی فوری رہائی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر ان کے خلاف عائد الزامات کی بنیاد پر انہیں جیل میں رکھا گیا ہے تو پھر دیگر سیاست دانوں کے معاملات کا بھی جائزہ لیا جانا چاہیے۔
انہوں نے پی ٹی آئی کی زیرحراست خواتین کی فوری رہائی کا مطالبہ بھی کیا۔