پشاور (پاک ٹوڈے): پشاور ہائیکورٹ نے خیبرپختونخوا اسمبلی کی ڈپٹی اسپیکر ثریا بی بی کو 10 نومبر تک گرفتار کرنے سے روک دیا ہے، جبکہ سرکاری رہائش گاہ خالی کرانے کا حکم بھی معطل کردیا ہے۔
جسٹس اعجاز انور اور جسٹس محمد فہیم ولی پر مشتمل بینچ نے حکم دیا کہ ثریا بی بی اگلی سماعت تک عارضی طور پر سرکاری رہائش گاہ میں قیام کرسکتی ہیں۔ عدالت نے حکام کو مقررہ تاریخ تک ان کی گرفتاری سے بھی روک دیا۔
ثریا بی بی نے سرکاری رہائش گاہ سیل کیے جانے اور مینٹیننس آف پبلک آرڈر (ایم پی او) آرڈیننس کی دفعہ 3 کے تحت ممکنہ گرفتاری کے خلاف درخواست دائر کی تھی۔
عدالت نے اپنے حکم میں مشاہدہ کیا کہ صوبے میں گورنر راج کے نفاذ کے اعلامیے میں اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کو ان عہدیداروں میں شامل نہیں کیا گیا جنہیں اپنے عہدوں پر برقرار نہیں رہنا تھا۔ بینچ کے مطابق بظاہر رہائش گاہ خالی کرانے کے حکم میں بھی اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کا ذکر موجود نہیں۔
سماعت کے دوران ایڈووکیٹ جنرل ثناء اللہ نے مؤقف اختیار کیا کہ وفاقی حکومت کے احکامات اور 11 اکتوبر کے ایمرجنسی اعلامیے کے تحت ڈپٹی اسپیکر سمیت صوبائی وزراء اور مشیروں سے سرکاری رہائش گاہیں خالی کرائی جاسکتی ہیں۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ثریا بی بی چترال کے ڈپٹی کمشنر کی جانب سے درج ایف آئی آر میں نامزد ہیں۔
دوسری جانب درخواست گزار کے وکیل یاسر خٹک نے خیبرپختونخوا اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر (استثنیٰ، مراعات، تنخواہیں اور الاؤنسز) ایکٹ 2026 کی دفعہ 8 کا حوالہ دیتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ نئے عہدیداروں کے انتخاب تک اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر سرکاری رہائش استعمال کرنے کے حق دار ہیں۔
عدالت نے کیس کی مزید سماعت 10 نومبر تک ملتوی کردی۔