پشاور میں قبروں کی بے حرمتی کے مقدمے کا زیرحراست ملزم فائرنگ میں ہلاک

پشاور (پاک ٹوڈے): پشاور میں قبروں کی مبینہ بے حرمتی کے مقدمے میں زیرحراست ملزم پولیس کے مطابق شیخان قبرستان میں جائے وقوعہ کی نشاندہی کے لیے لے جائے جانے کے دوران مسلح افراد کی فائرنگ سے ہلاک ہوگیا۔

پولیس حکام کے مطابق واقعہ تھانہ بڈھ بیر کی حدود میں پیش آیا، جہاں ملزم سلمان ولد افغان کو شیخان قبرستان لے جایا جا رہا تھا۔ اسی دوران 3 موٹر سائیکلوں پر سوار 6 مسلح افراد نے پولیس ٹیم پر فائرنگ کردی۔

پولیس کے مطابق فائرنگ سے سرکاری گاڑی کو نقصان پہنچا جبکہ ایک اہلکار کی بلٹ پروف جیکٹ بھی متاثر ہوئی۔ فائرنگ کی زد میں آکر زیرحراست ملزم سلمان شدید زخمی ہوگیا، جسے ہسپتال منتقل کیا جا رہا تھا تاہم وہ راستے میں دم توڑ گیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ حملہ آور فائرنگ کے بعد فرار ہوگئے، جن کی گرفتاری کے لیے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کردیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق ملزم کو ایک روز قبل مقامی افراد نے شیخان قبرستان سے اس وقت پکڑا تھا جب وہ مبینہ طور پر ایک قبر کھود کر بچی کی نعش نکال رہا تھا، بعد ازاں اسے پولیس کے حوالے کردیا گیا۔

پولیس حکام کے مطابق ملزم کی عمر 19 سال اور وہ افغان شہری تھا جو پشاور کے علاقے باڑہ قدیم میں رہائش پذیر تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دوران تفتیش ملزم نے اس سے قبل بھی قبریں کھودنے کا اعتراف کیا تھا۔

پولیس کے مطابق ابتدائی تفتیش میں یہ بات سامنے آئی کہ ملزم مبینہ طور پر بچیوں کی قبروں کو نشانہ بناتا اور نعشیں نکال کر قبرستان کے قریب جھاڑیوں والے علاقوں میں لے جاتا تھا۔ پولیس کے تازہ بیان میں ملزم کی جانب سے 10 قبروں کی بے حرمتی کا اعتراف کیے جانے کی بات کی گئی ہے، جبکہ ایک روز قبل پولیس نے چار قبروں سے نعشیں نکالنے کے اعتراف کی اطلاع دی تھی۔

 

 

Related posts

پی ٹی آئی لانگ مارچ، اسلام آباد پولیس نے پنجاب سے 16 ہزار اہلکار طلب کرلیے

خضدار میں باغبانہ تھانے پر مسلح افراد کا قبضہ، اسلحہ اور گاڑیاں لے گئے

جنوبی وزیرستان اپر میں موٹر سائیکل سواروں پر فائرنگ، ایک جاں بحق