مولانا فضل الرحمان کو اب مسترد شدہ لوگ یاد آگئے، پی ڈی ایم دور میں گورنر کس کو بنایا تھا؟ فیصل کریم کنڈی

پشاور (پاک ٹوڈے): گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اور سابق صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ مولانا صاحب کو اب مسترد شدہ لوگ یاد آرہے ہیں، لیکن جب وہ پی ڈی ایم حکومت کا حصہ تھے تو انہوں نے گورنر کس کو بنایا تھا؟

ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کو صوبے کے عوامی کاموں پر اعتراضات ہوسکتے ہیں، تاہم ان کی وجہ سے ترقیاتی اور عوامی منصوبے نہیں روکے جا سکتے۔

گورنر نے مولانا فضل الرحمان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دوسروں کے بچوں کو جہاد کے لیے بھیجا جاتا ہے، جبکہ اپنے بچوں اور بھائیوں کو یورپ، امریکہ اور ترکی بھیجا جاتا ہے۔ ان کا سوال تھا کہ غریب کا بچہ جہاد پر جائے اور مولانا صاحب کے اہل خانہ بیرون ملک سیر و تفریح کریں، کیا یہ درست ہے؟

فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں سے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی اور تشدد کے واقعات کے خاتمے کے لیے یہ جنگ ہر صورت جیتی جائے گی۔ ان کے مطابق گزشتہ صوبائی حکومت نے اس معاملے میں ریاست کا ساتھ نہیں دیا۔

گورنر نے الزام عائد کیا کہ افغانستان، بھارت اور اسرائیل کی سہولت کاری کر رہا ہے اور سرحد پار سے ڈرون بھیجے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کے خلاف کارروائیوں میں ملوث عناصر کے خلاف ریاست خود کارروائی کرے گی اور امن کے قیام کے لیے انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشنز کیے جائیں گے۔

پولیس کی خالی آسامیوں سے متعلق بات کرتے ہوئے گورنر نے بتایا کہ خیبر پختونخوا پولیس میں 17 ہزار اسامیاں خالی ہیں، جنہیں جلد شفاف طریقے سے پُر کیا جائے گا۔ انہوں نے پولیس فورس کو مکمل تعاون فراہم کرنے اور جدید اسلحے سے لیس کرنے کا بھی اعلان کیا۔

صوبائی محکموں میں مبینہ بدعنوانی کے حوالے سے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ بعض محکموں میں کک بیکس کا نظام موجود ہے۔ ان کے بقول فنانس کے شعبے میں 12 فیصد کٹوتی کے بعد بل منظور کیے جاتے رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ متعلقہ محکمے اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں اور ٹھوس شواہد سامنے آنے پر انہیں عوام کے سامنے لایا جائے گا۔

Related posts

مدارس کی رجسٹریشن یا انتظامی دباؤ؟ بلوچستان میں حکومت اور جمعیت علماء اسلام آمنے سامنے

پاکستانی خلا باز چین کے آئندہ خلائی مشن میں شامل ہوگا، تیانگونگ اسپیس اسٹیشن جائے گا

بشیر زیب کی رخصتی: بی ایل اے میں قیادت کی تبدیلی یا اندرونی اقتدار کی جنگ؟