پشاور (پاک ٹوڈے): کاؤنٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) خیبرپختونخوا نے پشاور ریجن میں کارروائی کرتے ہوئے 5 شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ سی ٹی ڈی کے مطابق ہلاک دہشت گردوں میں کالعدم تنظیم داعش خراسان (ISKP) کا اہم کمانڈر عمران عرف ابو بکر بھی شامل ہے، جو دہشت گردی کے 20 مقدمات میں مطلوب تھا۔
سی ٹی ڈی ترجمان کے مطابق 10 ستمبر 2026 کو ایس پی سی ٹی ڈی پشاور ریجن کو اطلاع ملی کہ کالعدم تنظیم ISKP سے وابستہ دہشت گرد شمشتو کیمپ کے قریب، تھانہ ارمڑ کی حدود میں واقع ایک کمپاؤنڈ میں موجود ہیں، جہاں مبینہ طور پر حساس اداروں، امام بارگاہوں اور چرچز پر بم دھماکوں سمیت دیگر دہشت گرد کارروائیوں کی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی۔
ترجمان کے مطابق اطلاع کی تصدیق کے بعد سی ٹی ڈی کی SWAT ٹیموں نے مذکورہ کمپاؤنڈ کو چاروں اطراف سے گھیرے میں لے لیا۔ اہلکاروں کے کمپاؤنڈ میں داخل ہونے پر وہاں موجود مسلح افراد نے مبینہ طور پر فائرنگ شروع کردی، جس کے بعد جوابی کارروائی میں فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور 5 شدت پسند مارے گئے۔ کارروائی کے دوران ڈرون کا بھی استعمال کیا گیا۔
سی ٹی ڈی کے مطابق کارروائی مکمل ہونے کے بعد جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرنے کے لیے بم ڈسپوزل یونٹ اور فارنزک ٹیموں نے بھی موقع پر پہنچ کر کارروائی مکمل کی۔
ترجمان کے مطابق مارے جانے والے شدت پسندوں کے قبضے سے ایک ایس ایم جی، 4 پستول، 2 ہینڈ گرینیڈ، 5 میگزین، ایک خود ساختہ آئی ای ڈی اور متعدد کارتوس برآمد ہوئے۔
سی ٹی ڈی کے مطابق مارے جانے والوں میں ایک کی شناخت عمران ولد دلاور خان، سکنہ ترخو کٹکوٹ، تحصیل ماموند، ضلع باجوڑ، عرف عبداللہ، بلال اور ابو بکر کے نام سے ہوئی، جبکہ دوسرے کی شناخت شاہد اللہ ولد میراج، سکنہ شیخ بابا چرتہ، ضلع اپر مہمند کے نام سے ہوئی ہے۔ دیگر ہلاک شدت پسندوں کی شناخت کا عمل جاری ہے۔
ترجمان کے مطابق عمران عرف ابو بکر اسلام آباد سمیت دیگر اضلاع میں بم دھماکوں، پولیس اور سیاسی رہنماؤں کی ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گردی سے متعلق مجموعی طور پر 20 مقدمات میں سی ٹی ڈی کو مطلوب اشتہاری ملزم تھا۔
سی ٹی ڈی نے دعویٰ کیا ہے کہ عمران عرف ابو بکر مولانا خانزیب اور سینیٹر ہدایت اللہ کی ہلاکت کے واقعات میں بھی ملوث تھا۔ ترجمان کے مطابق وہ ریحان زیب کی ہلاکت میں بھی براہِ راست ملوث تھا اور دیگر ساتھیوں کے ہمراہ موقع پر موجود رہ کر فائرنگ کی تھی۔
سی ٹی ڈی کے مطابق عمران عرف ابو بکر 6 فروری 2026 کو ترلئی، اسلام آباد میں ہونے والے امام بارگاہ خودکش حملے کا مبینہ ماسٹر مائنڈ بھی تھا اور سی ٹی ڈی اسلام آباد کو مطلوب تھا۔ ترجمان کے مطابق اس نے حملے کے لیے خودکش جیکٹ باجوڑ سے منگوائی اور خودکش بمبار کو نوشہرہ سے ترلئی پہنچایا تھا، جبکہ ہلاک دہشت گرد شاہد اللہ نے مبینہ طور پر حملے کے لیے ریکی اور ہدف بنائی گئی امام بارگاہ کی نشاندہی کی تھی۔
ترجمان نے مزید دعویٰ کیا کہ مذکورہ دہشت گرد 2023 میں باجوڑ میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ورکرز کنونشن پر ہونے والے خودکش حملے میں بھی ملوث تھا۔
سی ٹی ڈی کے مطابق حکومت پاکستان نے عمران عرف ابو بکر کی گرفتاری یا سراغ کے لیے ایک کروڑ 20 لاکھ روپے انعام مقرر کر رکھا تھا۔
انسپکٹر جنرل پولیس خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید اور ایڈیشنل انسپکٹر جنرل سی ٹی ڈی نے کارروائی میں حصہ لینے والے اہلکاروں کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ صوبے میں امن کے قیام اور آخری دہشت گرد کے خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔