لاہور: ای بائیکس اسکیم اور مفت اسکوٹی ٹریننگ کا آغاز

لاہور (پاک ٹوڈے): وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ویژن کے تحت طلبہ و طالبات اور بالخصوص خواتین کو متحرک و بااختیار بنانے کے لیے ای بائیکس اسکیم، خصوصی ڈرائیونگ ٹریننگ اسکولز اور لائسنسنگ سینٹرز پر ‘Gen-Z’ کاؤنٹرز قائم کر دیے گئے ہیں۔

​ترجمان ٹریفک پولیس کے مطابق طلبہ کی سہولت اور رہنمائی کے لیے شہر میں 5 خصوصی ڈرائیونگ اسکولز متحرک کیے گئے ہیں۔ چیف ٹریفک آفیسر (سی ٹی او) لاہور کی ہدایت پر تمام خدمت مراکزی اور لائسنس سینٹرز میں Gen-Z اسکوٹی کاؤنٹرز کا آغاز بھی کر دیا گیا ہے، جہاں نوجوانوں کو ترجیحی بنیادوں پر خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔

​اسکوٹی لائسنس یا پرمٹ کے حصول کی شرائط کے حوالے سے حکام کا کہنا ہے کہ طالب علموں کو اصل قومی شناختی کارڈ یا فارم ‘بی’ کے ساتھ اپنے والد یا سرپرست کی موجودگی میں تشریف لانا ہوگا۔

​ٹریفک پولیس کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق ان اقدامات کے نتیجے میں اب تک 1 لاکھ 72 ہزار سے زائد موٹرسائیکل لائسنس جبکہ 6 ہزار 546 جووینائل پرمٹ جاری کیے جا چکے ہیں۔

​اس وقت شہر کے مختلف اہم مقامات بشمول آبشار ڈرائیونگ اسکول، لبرٹی خدمت مرکز، گریٹر اقبال پارک، ٹریفک پولیس لائنز مناواں اور ایل او ایس فیروزپور روڈ پر اسکوٹی اور ڈرائیونگ ٹریننگ کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ ایل او ایس سینٹر پر خواتین کو مکمل طور پر مفت اسکوٹی ڈرائیونگ کی تربیت دی جا رہی ہے۔

​سی ٹی او لاہور سید عبدالرحیم شیرازی کا کہنا ہے کہ خواتین کو بااعتماد اور خودمختار بنانے کے لیے اسکوٹی اسکولز میں ‘وویمن ٹو وویمن’ (خواتین کی جانب سے خواتین کو) سروس فراہم کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شہر بھر میں خواتین کے لیے اسکوٹی کی تربیت کے 5 اور فور ویلر (گاڑی) کی تربیت کے 12 مراکز کام کر رہے ہیں۔

​ان کا مزید کہنا تھا کہ خواتین کی سماجی و معاشی خودمختاری سے معاشرے میں مثبت اور پائیدار تبدیلی آئے گی، اور اس مقصد کے لیے ٹریفک پولیس تمام ممکنہ سہولیات کی فراہم یقینی بنا رہی ہے۔

Related posts

27 ستمبر کا احتجاج: پی ٹی آئی پر حالات خون آلود بنانے کی منصوبہ بندی کا الزام

لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب کے میڈیکل کالجز کو افغان طلبہ نکالنے سے روک دیا۔

سوراب: ڈاکوؤں کی فائرنگ، خاران پریس کلب کے صدر کے بیٹے جاں بحق