پشاور: عالمی یومِ جبری گمشدگی پر پی ٹی ایم کا احتجاجی مظاہرہ اور واک، لاپتہ افراد کو پیش کرنے کا مطالبہ

 

پشاور (پاک ٹوڈے): عالمی یومِ جبری گمشدگی کی مناسبت سے پشتون تحفظ موومنٹ (PTM) کے زیرِ اہتمام پشاور کے باچا خان چوک میں ایک احتجاجی مظاہرے اور واک کا اہتمام کیا گیا، جس میں ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹس، سیاسی و سماجی رہنماؤں اور لاپتہ افراد کے لواحقین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

مظاہرے کے دوران ریاست سے پرزور مطالبہ کیا گیا کہ تمام جبری طور پر لاپتہ کیے گئے افراد کو عدالتوں اور قانون کے سامنے پیش کر کے ان کا شفاف ٹرائل کیا جائے۔ مقررین کا کہنا تھا کہ شہریوں کو سالہا سال سے بلا جواز حبسِ بے جا میں رکھنا انسانی حقوق کی سنگین اور کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے ملک کی اعلیٰ عدلیہ اور پارلیمنٹ کے کردار پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان اداروں کے متنازع اور غیر فعال رویے کی مذمت کی۔

احتجاجی مظاہرے اور واک سے پشتون تحفظ موومنٹ کے آفتاب شینواری، پاکستان پیپلز پارٹی کے گل بہادر آفریدی، جبکہ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان (HRCP) کی جانب سے منظور آفریدی، عبدالشکور آفریدی اور اسرار شینواری نے خطاب کیا۔

پاکستان میں جبری گمشدگیوں کا مسئلہ محض ایک قانونی یا انتظامی معاملہ نہیں رہا بلکہ یہ ایک عمیق انسانی اور آئینی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 10 ہر شہری کو فیئر ٹرائل اور قانونی دفاع کا بنیادی حق دیتا ہے، مگر سالہا سال سے بغیر کسی جرم یا عدالت کے سامنے پیش کیے شہریوں کو لاپتہ رکھنا نہ صرف بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی ہے بلکہ یہ عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد کے رشتے کو شدید نقصان پہنچاتا ہے۔

Related posts

سوات موٹروے پر فلائنگ کوچ اور ڈمپر میں تصادم، 4 افراد جاں بحق، 7 شدید زخمی

پشاور: انصار الاسلام کے سابق اہم کمانڈر سید اکبر کو نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے قتل کر دیا

لکی مروت: عبدالخیل میں لکی پولیس اور امن کمیٹی کی مشترکہ کارروائی، مبینہ جنگجوؤں کے گھر نذرِ آتش