اسلام آباد (پاک ٹوڈے): پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان باقاعدہ مذاکرات آج سے اسلام آباد میں شروع ہو رہے ہیں، جس کے لیے آئی ایم ایف کا وفد پاکستان پہنچ چکا ہے۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات میں وزیر خزانہ کے ساتھ پاکستان کی اقتصادی ٹیم بھی شریک ہوگی۔ بات چیت میں 30 جون تک کے معاشی اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے گا، جبکہ پاکستانی حکام کی جانب سے ساورن ویلتھ فنڈ اور گردشی قرضے میں کمی سے متعلق اقدامات پر بریفنگ دی جائے گی۔
ذرائع وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کو چینی کے شعبے کو ڈی ریگولیٹ نہ کرنے کی وجوہات سے بھی آگاہ کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے، پرائمری سرپلس کی صورتحال، غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر اور شرح تبادلہ سے متعلق امور پر بھی بات ہوگی۔
آئی ایم ایف اور ایف بی آر کے درمیان مذاکرات میں ٹیکس نیٹ بڑھانے اور ٹیکس اصلاحات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا، جبکہ وزارت توانائی کی جانب سے گردشی قرضے اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات سے متعلق بریفنگ دی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق نیب اور ایف آئی اے حکام آئی ایم ایف کو منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے لیے کیے گئے اقدامات سے بھی آگاہ کریں گے۔
آئی ایم ایف کی جانب سے پنجاب اور خیبرپختونخوا کی حکومتوں سے بھی مذاکرات کیے جائیں گے، جن میں صوبائی سطح پر ٹیکس اور نان ٹیکس آمدن بڑھانے کے اقدامات کے ساتھ زرعی ٹیکس کی وصولی سے متعلق امور زیر بحث آئیں گے۔
