تحریر: اسلام الدین ساجد
اسلام آباد: پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ ہوگیا ہے۔ پاکستانی حکام کے مطابق جنوبی وزیرستان کے سرحدی علاقے انگور اڈہ میں افغان طالبان کی مبینہ فائرنگ اور مارٹر گولے گرنے سے ایک شہری جاں بحق اور پانچ زخمی ہوگئے، جبکہ متعدد دکانوں کو نقصان پہنچا ہے۔
دوسری جانب افغان طالبان حکومت کے ترجمان نے تازہ جھڑپوں کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی فورسز نے افغانستان کے صوبے پکتیکا میں پہلے مارٹر گولے فائر کیے اور ڈرون حملے کیے، جس کے بعد افغان سرحدی فورسز نے جوابی کارروائی کی۔
دونوں جانب سے ایک دوسرے پر حملوں میں پہل کرنے اور شہری آبادی کو نشانہ بنانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
جنوبی وزیرستان میں تازہ حملہ، ایک شہری جاں بحق
ڈپٹی کمشنر لوئر جنوبی وزیرستان کے مطابق 27 اکتوبر کی شب افغان طالبان فورسز نے سرحدی علاقے انگور اڈہ میں شہری گھروں اور بازار کو مبینہ طور پر نشانہ بنایا۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا گیا کہ مارٹر گولہ گرنے سے ایک شہری جاں بحق اور پانچ زخمی ہوئے، جبکہ متعدد دکانوں کو نقصان پہنچا۔
ڈپٹی کمشنر کے مطابق سرحد پر تعینات پاکستانی فورسز حملے کا مؤثر جواب دے رہی ہیں۔
ایک پاکستانی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر پاک ٹوڈے کو بتایا کہ افغان طالبان فورسز نے گزشتہ رات جنوبی وزیرستان کے سرحدی علاقے میں فائرنگ کی اور مبینہ طور پر شدت پسندوں کو سرحد عبور کرکے پاکستان میں داخل ہونے میں مدد دینے کی کوشش کی، جسے پاکستانی فورسز نے روک دیا۔
عہدیدار کے مطابق پاکستانی فورسز نے ان مقامات کو نشانہ بنایا جہاں سے فائرنگ کی گئی تھی۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ افغان فورسز اس سے قبل بھی باجوڑ، وزیرستان، کرم اور دیگر سرحدی علاقوں میں شہری آبادی کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔
پاکستانی عہدیدار نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں صرف شدت پسندوں کے ٹھکانوں اور ان کے معاون ڈھانچے کو نشانہ بناتا ہے اور شہری آبادی کو ہدف نہیں بناتا۔
انہوں نے کہا کہ اب تک افغانستان کے اندر جن اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے، ان میں صرف شدت پسندوں کے مراکز اور افغان طالبان کے وہ فوجی مراکز شامل ہیں جہاں سے پاکستانی شدت پسندوں کو معاونت فراہم کی جا رہی تھی۔
افغانستان کا مؤقف: پاکستان نے پہلے حملہ کیا
افغان طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے پاک ٹوڈے سے ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کے الزامات کو مسترد کیا اور دعویٰ کیا کہ تازہ جھڑپوں کا آغاز پاکستانی فورسز نے افغانستان کے صوبے پکتیکا میں حملوں سے کیا۔
مجاہد کے مطابق پاکستانی فورسز نے پکتیکا میں مارٹر گولے فائر کیے اور ڈرونز کے ذریعے حملے کیے، جن میں ان کے بقول افغان فورسز اور شہری آبادی کو نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے کہا کہ افغان سرحدی فورسز نے پاکستانی حملوں کے جواب میں پاکستان کی سرحدی چوکیوں کو نشانہ بنایا۔
مجاہد نے کہا، ’’ہم نے پہلے فائرنگ نہیں کی۔ پاکستان نے حملے میں پہل کی اور پکتیکا میں پہلا حملہ کیا۔‘‘
افغان ترجمان نے پاکستان پر الزام عائد کیا کہ وہ رواں سال سے افغانستان کے اندر مسلسل فضائی اور ڈرون حملے کر رہا ہے اور مارٹر گولوں سے گولہ باری بھی کر رہا ہے۔
ان کے مطابق افغان فورسز ان کارروائیوں کے جواب میں اپنے دفاع کے لیے اقدامات کر رہی ہیں۔
مجاہد نے جاری تنازع کے حوالے سے بیرونی طاقتوں کے ممکنہ دباؤ کا بھی دعویٰ کیا، تاہم اس الزام کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان لڑائی کسی بھی ملک یا خطے کے مفاد میں نہیں اور مسائل کا حل فوجی کارروائیوں کے بجائے مذاکرات کے ذریعے تلاش کیا جانا چاہیے۔
ان کے بقول، دونوں ممالک کے درمیان تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کے لیے سفارتی کوششیں ضروری ہیں۔
پاکستان کا مؤقف: افغانستان میں شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے
پاکستان کی وزارت خارجہ نے 26 اکتوبر کو جاری بیان میں افغان طالبان حکومت کی جانب سے پاکستانی کارروائیوں کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں سے متعلق الزامات کو بے بنیاد اور غیر مصدقہ قرار دیتے ہوئے مسترد کیا تھا۔
افغان وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی نے اس سے قبل دعویٰ کیا تھا کہ فروری سے پاکستان کے حملوں میں افغانستان کے 1,119 شہری جاں بحق ہوئے اور ان حملوں میں ہسپتالوں، اسکولوں اور شہری آبادی کو نشانہ بنایا گیا۔
پاکستان نے ان اعدادوشمار اور شہریوں کو دانستہ نشانہ بنانے کے الزامات کو مسترد کیا ہے۔
پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی کرنے اور کارروائیاں کرنے والے شدت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی ناگزیر ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ غلط معلومات اور گمراہ کن بیانیے افغانستان میں سرگرم شدت پسند نیٹ ورکس کے خطرے کو چھپا نہیں سکتے اور نہ ہی افغان طالبان حکومت کو اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کی ذمہ داری سے بری کرسکتے ہیں۔
وزارت خارجہ کے مطابق پاکستان میں 2026 کے دوران شدت پسند حملوں کے نتیجے میں 3,500 سے زیادہ جانی نقصانات ہوچکے ہیں۔
پاکستان نے اقوام متحدہ کے متعلقہ مانیٹرنگ میکنزمز کی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں متعدد شدت پسند تنظیمیں موجود ہیں، جن میں ٹ ٹ پ، اور بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) شامل ہیں۔
اسلام آباد افغان حکومت پر ان گروہوں کو پناہ دینے یا ان کی سرگرمیوں میں سہولت کاری کا الزام عائد کرتا ہے، تاہم طالبان حکومت پاکستان کے الزامات کو مسترد کرتی رہی ہے۔
پاکستانی وزارت خارجہ نے کہا کہ ملک اپنی سلامتی کے تحفظ اور شہریوں و سکیورٹی اہلکاروں پر حملوں کی روک تھام کے لیے اپنے دفاع کا حق رکھتا ہے۔
بیان کے مطابق افغانستان میں پاکستانی کارروائیاں شدت پسندوں اور ان کے معاون ٹھکانوں تک محدود ہیں اور پاکستان نے ضرورت، تناسب اور شہریوں کے تحفظ کے اصولوں کو مدنظر رکھا ہے۔
پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ افغان طالبان حکومت کو اس بات کا پابند بنائے کہ افغان سرزمین دوسرے ممالک کے خلاف شدت پسندانہ کارروائیوں کے لیے استعمال نہ ہو۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے؟
پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کی بنیادی وجوہات میں سرحد پار شدت پسندی، شدت پسندوں کی موجودگی، سرحدی سکیورٹی اور افغانستان کے اندر پاکستانی فوجی کارروائیاں شامل ہیں۔
پاکستان طویل عرصے سے الزام عائد کرتا آیا ہے کہ تحریک طالبان پاکستان افغانستان میں موجود ٹھکانوں سے پاکستانی سکیورٹی فورسز اور شہریوں کے خلاف حملوں کی منصوبہ بندی کرتی ہے۔
ٹ ٹ پ افغان طالبان سے الگ ایک مسلح شدت پسند تنظیم ہے، جس نے حالیہ برسوں میں پاکستان کے خلاف اپنی کارروائیاں تیز کی ہیں۔ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ یہ تنظیم افغانستان میں موجود پناہ گاہوں سے فائدہ اٹھاتی ہے اور وہاں سے پاکستان کے اندر حملوں کی منصوبہ بندی کرتی ہے۔
افغان طالبان حکومت ان الزامات کی تردید کرتی ہے کہ افغان سرزمین کو دوسرے ممالک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ کابل کا مؤقف ہے کہ پاکستان کو اپنے سکیورٹی خدشات دور کرنے کے لیے فوجی کارروائیوں کے بجائے مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔
دونوں ممالک کے درمیان ماضی میں بھی سرحدی جھڑپیں ہوتی رہی ہیں، جن کے بعد اسلام آباد اور کابل ایک دوسرے پر فائرنگ میں پہل کرنے اور شہریوں کی جانوں کو خطرے میں ڈالنے کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔
سرحد کے قریب آباد شہری ان جھڑپوں سے براہ راست متاثر ہوتے ہیں۔ فائرنگ اور مارٹر گولوں کے نتیجے میں مکانات، بازاروں اور دیگر املاک کو نقصان پہنچنے کے ساتھ جانی نقصان کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔
سعودی عرب، ترکیہ، قطر اور متحدہ عرب امارات کی ثالثی کی کوششیں
ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق سعودی عرب، ترکیہ، قطر، متحدہ عرب امارات اور چین سمیت بعض ممالک نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور تنازعات کے حل کے لیے ثالثی کی کوششیں کی ہیں۔
مجاہد نے الزام عائد کیا کہ پاکستان مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کے لیے آمادہ نہیں۔ تاہم پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغان طالبان ان شدت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی کے لیے تیار نہیں، جس کی وجہ سے مذاکرات اب تک بے نتیجہ رہے ہیں۔
پاکستان کا یہ بھی مؤقف ہے کہ کسی بھی پائیدار معاہدے کے لیے افغانستان میں موجود ان شدت پسند گروہوں کے خلاف قابلِ تصدیق اقدامات ضروری ہیں جنہیں اسلام آباد اپنی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھتا ہے۔
دوسری جانب افغان طالبان حکومت پاکستان کی فضائی اور ڈرون کارروائیوں کو افغان خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیتی ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان بنیادی اختلاف یہی ہے کہ پاکستان افغان سرزمین سے ہونے والے حملوں کو روکنے کے لیے مؤثر کارروائی کا مطالبہ کرتا ہے، جبکہ افغان طالبان حکومت پاکستان سے سرحد پار فوجی کارروائیاں بند کرنے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے پر زور دیتی ہے۔
سرحدی آبادی اور علاقائی استحکام کو خطرات
پاکستان اور افغانستان کے درمیان مسلسل کشیدگی سے سرحدی علاقوں میں رہنے والے شہریوں، تاجروں اور خاندانوں کو مشکلات کا سامنا ہے، کیونکہ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تجارت اور آمدورفت بھی گزشتہ ایک سال سے بند ہے۔
انگور اڈہ میں ایک شہری کی ہلاکت اور پانچ افراد کے زخمی ہونے کا واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سرحدی تنازع کا براہ راست بوجھ عام شہریوں کو اٹھانا پڑ رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ صورت حال میں فوری ضرورت اس امر کی ہے کہ مزید جانی نقصان سے بچنے کے لیے کشیدگی کم کی جائے اور دونوں ممالک بات چیت کے ذریعے مسائل کا حل نکالیں۔
