تہران (پاک ٹوڈے): ایران نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کو سات روز میں تجارتی جہازوں کے لیے دوبارہ کھولنے سے متعلق ایرانی تجویز مسترد کیے جانے کے بعد وہ امریکی مذاکرات کاروں کے باضابطہ جواب کا انتظار کرے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ٹیلیگرام پر جاری بیان میں ٹرمپ کے فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ماضی میں کئی متضاد بیانات دے چکے ہیں۔ ان کے مطابق ایران ثالثوں کے ذریعے امریکا کا حتمی مؤقف موصول ہونے کا انتظار کرے گا، جس کے بعد آئندہ کا فیصلہ کیا جائے گا۔
ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کے دوران ایرانی تجویز کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے معاہدہ کرنا چاہتا ہے کیونکہ اسے شدید نقصان کا سامنا ہے۔ ٹرمپ نے سنیچر کو یہ بھی کہا تھا کہ آبنائے ہرمز کا کنٹرول پہلے ہی امریکا کے پاس ہے۔
عباس عراقچی نے اس سے قبل اقوام متحدہ میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان ضروری شرائط پوری ہوجائیں تو معاہدہ ممکن ہے۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز کھولنے سے متعلق شرائط وہی ہیں جو جون میں امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت میں شامل تھیں۔
ایران کا کہنا ہے کہ نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر گزشتہ ہفتے ہونے والے مذاکرات میں تہران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور دشمنی ختم کرنے کا معاملہ اٹھایا تھا۔
دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل اور گیس کی سپلائی معمول کے حالات میں آبنائے ہرمز سے گزرتی ہے، تاہم فروری میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے یہ اہم آبی گزرگاہ عملی طور پر بند ہے۔
امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کرنے والے عمان نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ بحران کے حل کے لیے مذاکرات جاری رکھے جائیں۔ عمانی وزیر خارجہ بدر بوسعیدی نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کے تحفظ کے لیے تمام فریقوں سے عمان کے ساتھ تعاون کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب نیٹو میں امریکی سفیر میتھیو وٹیکر نے ٹرمپ کی جانب سے ایرانی تجویز مسترد کیے جانے کی حمایت کی۔ فوکس نیوز سے گفتگو میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران نے عالمی سطح پر اپنا مؤقف بہتر ظاہر کرنے کے لیے ادھورے اقدامات اور خیالی معاہدے پیش کیے ہیں۔