تیراہ (پاک ٹوڈے): خیبرپختونخوا کے ضلع خیبر کی وادیٔ تیراہ سے نقل مکانی کرنے والے خاندانوں کی واپسی اور بحالی کے عمل میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔
متعلقہ حکام اور 24 رکنی کمیٹی نے وادیٔ تیراہ میدان کا تفصیلی دورہ کیا، جہاں 27 بریگیڈ کے کمانڈر اور ڈپٹی کمشنر ضلع خیبر کے ساتھ متاثرہ خاندانوں کی واپسی اور بحالی کے انتظامات سے متعلق اجلاس ہوا۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ چھ آفریدی اقوام سے تعلق رکھنے والے متاثرہ خاندانوں کی وادیٔ تیراہ واپسی 10 اکتوبر سے مرحلہ وار شروع کی جائے گی۔ ابتدائی مرحلے میں روزانہ 50 سے 80 خاندانوں کو واپس آباد کیا جائے گا تاکہ رش سے بچتے ہوئے انتظامی اور بنیادی سہولیات کو مؤثر انداز میں فعال رکھا جاسکے۔
حکام کے مطابق واپسی کے نظام میں بہتری آنے کے بعد روزانہ واپس آنے والے خاندانوں کی تعداد میں بتدریج اضافہ کیا جائے گا۔
حکام نے کہا کہ بحالی کے پورے عمل میں تمام متعلقہ اقوام کو ساتھ لے کر چلا جائے گا تاکہ باہمی اعتماد اور ہم آہنگی برقرار رہے۔
وادیٔ تیراہ میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہونے اور بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کے بعد مرحلہ وار واپسی کا منصوبہ ترتیب دیا گیا ہے۔ مقامی کمیٹی اور سیکیورٹی ادارے واپسی کے عمل کی نگرانی کریں گے تاکہ متاثرہ خاندان محفوظ انداز میں اپنے گھروں کو واپس جاسکیں۔
مرحلہ وار واپسی کا یہ عمل ان خاندانوں کے لیے اہم پیش رفت ہے جو طویل عرصے سے نقل مکانی کی مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔