تحریر: ڈاکٹر سجاد احمد
امریکا میں ایک غیرمعمولی اور متنازع فیصلے نے سزائے موت کے حوالے سے نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ امریکی فوج کے سابق میجر اور ماہرِ نفسیات ندال ملک حسن کو 2009 میں ٹیکساس کے فوجی اڈے فورٹ ہُڈ میں فائرنگ کرکے 13 افراد کو قتل کرنے کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی۔ اب امریکی فوج نے ان کی سزا پر عمل درآمد کے لیے 3 دسمبر 2026 کی تاریخ مقرر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ منصوبے کے مطابق، سزا پر عمل درآمد فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے فورٹ ہُڈ میں کیا جائے گا، جبکہ پینٹاگون نے اس عمل کی براہِ راست آن لائن نشریات کی بھی تصدیق کی ہے۔
اہم، یہ معاملہ صرف ایک مجرم کو سزائے موت دینے تک محدود نہیں۔ انسانی حقوق اور انسانیت کی علمبردار ہونے کے کسی دعویدار ملک کے لیے سزا کو عوام کے سامنے براہِ راست پیش کرنے کا فیصلہ شفافیت، انسانی وقار، ریاستی اختیار اور سزائے موت کے مقاصد سے متعلق کئی اہم سوالات کو جنم دے رہا ہے۔
ندال ملک حسن کون ہیں؟
ندال ملک حسن 8 ستمبر 1970 کو امریکی ریاست ورجینیا کی آرلنگٹن کاؤنٹی میں پیدا ہوئے۔ ان کے والدین فلسطین کے مغربی کنارے سے امریکا منتقل ہوئے تھے۔ حسن فلسطینی نژاد امریکی شہری ہیں اور امریکا ہی میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے امریکی فوج کے میڈیکل کور میں ماہرِ نفسیات کی حیثیت سے خدمات انجام دیں اور میجر کے عہدے تک پہنچے۔ ان کی ذمہ داریوں میں فوجیوں کی ذہنی صحت سے متعلق امور بھی شامل تھے۔ یہی وجہ ہے کہ فورٹ ہُڈ میں ان کی جانب سے کیے گئے قتلِ عام نے امریکی فوجی اداروں اور معاشرے کو گہرا صدمہ پہنچایا۔
حسن کی گرفتاری کے وقت قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کی فائرنگ سے وہ زخمی ہوگئے تھے۔ ان کی کمر سے نیچے کا حصہ مفلوج ہوگیا اور اس کے بعد سے وہیل چیئر استعمال کرتے ہیں۔ وہ امریکی فوجی جیل میں قید ہیں۔
فورٹ ہُڈ میں 5 نومبر 2009 کو کیا ہوا؟
5 نومبر 2009 کو ٹیکساس کے فوجی اڈے فورٹ ہُڈ میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے پورے امریکا کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس روز فوجی اہلکار بیرونِ ملک تعیناتی سے قبل طبی معائنے اور دیگر ضروری کارروائیوں کے لیے ایک طبی مرکز میں موجود تھے کہ ندال ملک حسن نے فائرنگ شروع کردی۔ رپورٹس کے مطابق، حسن نے فائرنگ کے دوران ’’اللہ اکبر‘‘ کا نعرہ لگایا اور پستول سے فوجیوں کو نشانہ بنایا۔ انہوں نے عمارت سے باہر نکلنے والے افراد پر بھی گولیاں چلائیں۔
اس حملے میں مجموعی طور پر 13 افراد جان سے گئے، جن میں 12 امریکی فوجی اور ایک سویلین ملازم شامل تھا، جبکہ 32 افراد زخمی ہوئے۔ جوابی کارروائی کے دوران حسن کو گولیاں لگیں اور انہیں گرفتار کرلیا گیا۔ یہ واقعہ امریکی فوجی تاریخ کے سنگین ترین اندرونی حملوں میں شمار ہوتا ہے، کیونکہ حملہ آور خود امریکی فوج کا افسر تھا اور اسی فوجی اڈے پر موجود اہلکاروں کو نشانہ بنا رہا تھا جہاں وہ خدمات انجام دیتا تھا۔
حسن نے حملے کا کیا جواز پیش کیا؟
عدالتی کارروائی کے دوران حسن نے فائرنگ کے واقعے میں اپنے کردار سے انکار نہیں کیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ وہ امریکی فوجیوں کو افغانستان بھیجے جانے اور وہاں مسلمانوں کے خلاف کارروائیوں سے روکنا چاہتے تھے۔ انہوں نے اپنے اقدام کو طالبان اور ان کی قیادت کے دفاع کے تناظر میں پیش کرنے کی کوشش بھی کی۔ مقدمے سے متعلق رپورٹوں میں یہ بھی سامنے آیا کہ حسن عراق اور افغانستان میں امریکی فوجی کارروائیوں کے مخالف تھے اور ان کے اسلامی مبلغ انور العولقی سے رابطے رہے تھے، جن کا تعلق القاعدہ سے تھا۔
تاہم، کسی انتہاپسند شخصیت سے رابطے کا ذکر بذاتِ خود اس بات کا ثبوت نہیں کہ اسی شخصیت نے حملے کا عملی حکم دیا تھا۔ دستیاب رپورٹنگ میں حسن کے نظریاتی روابط اور ان کے پیش کردہ جواز کا ذکر ملتا ہے، لیکن ان دونوں باتوں کو الگ الگ سمجھنا ضروری ہے۔ حسن نے اپنے عمل کو جس مذہبی یا سیاسی مؤقف کے تحت درست ثابت کرنے کی کوشش کی، فوجی عدالت نے اسے قتل کے الزامات سے بری ہونے کے لیے قابلِ قبول قانونی دفاع تسلیم نہیں کیا۔
عدالت میں حسن کا رویہ غیرمعمولی کیوں تھا؟
دال ملک حسن نے مقدمے کے دوران اپنے وکلا کو برطرف کرکے اپنی نمائندگی خود کرنے کا فیصلہ کیا۔ اگرچہ معاون وکلا ان کی مدد کے لیے موجود رہے، لیکن دفاع کی قیادت خود حسن کے ہاتھ میں تھی۔ مقدمے کے آغاز میں انہوں نے تسلیم کیا کہ فائرنگ کرنے والا شخص وہی تھا۔ ان کے دفاع کا ایک اہم حصہ یہ مؤقف تھا کہ وہ افغانستان میں طالبان اور ان کی قیادت کا دفاع کررہے تھے۔ تاہم، جج کرنل تارا اوسبورن نے اس مؤقف کو قانونی دفاع کے طور پر پیش کرنے کی اجازت نہیں دی۔
استغاثہ نے مقدمے میں تقریباً 90 گواہ پیش کیے، لیکن حسن نے اپنے دفاع میں کوئی گواہ نہیں بلایا، خود بطور گواہ بیان نہیں دیا اور اختتامی دلائل بھی پیش نہیں کیے۔
ان کے معاون وکلا کو خدشہ تھا کہ حسن جان بوجھ کر ایسا طرزِ عمل اختیار کررہے ہیں جس کے نتیجے میں انہیں سزائے موت مل سکتی ہے۔ مقدمے کے دوران سامنے آنے والی بعض دستاویزات میں ان کے ایسے خیالات کا بھی ذکر ہوا جن سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ ممکنہ طور پر اپنی موت کو مذہبی شہادت کے تصور سے جوڑتے تھے۔
انہیں سزائے موت کیوں سنائی گئی؟
امریکی حکام اور عدالت کے مطابق حسن کو ان کے مذہب، فلسطینی خاندانی پس منظر یا امریکی خارجہ پالیسی سے اختلاف کی وجہ سے سزائے موت نہیں سنائی گئی، بلکہ ان کے خلاف ثابت ہونے والے قتل اور اقدامِ قتل کے سنگین جرائم اس فیصلے کی بنیاد بنے۔ عدالتی کارروائی کے مطابق، انہیں پہلے سے ارادے کے ساتھ قتل کے 13 اور پہلے سے ارادے کے ساتھ اقدامِ قتل کے 32 الزامات میں مجرم قرار دیا گیا۔
امریکی فوج کے مطابق، جیوری نے 23 اگست 2013 کو انہیں مجرم قرار دیا، جبکہ 28 اگست 2013 کو سزائے موت سنائی گئی۔ اس طرح عدالتی فیصلے اور سزا پر عمل درآمد کے لیے اب مقرر کی گئی تاریخ کے درمیان تیرہ برس سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہوگا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکی فوج کے 7 اکتوبر 2026 کے بیان میں 42 الزامات کا ذکر کیا گیا، جبکہ متعدد خبررساں اداروں اور تحقیقی مواد میں 13 قتل اور 32 اقدامِ قتل، یعنی مجموعی طور پر 45 الزامات بیان کیے گئے ہیں۔ سرکاری بیان میں اس عددی فرق کی وضاحت سامنے نہیں آئی۔
سزائے موت پر عمل درآمد میں اتنی تاخیر کیوں ہوئی؟
امریکا میں فوجی عدالت کی جانب سے سزائے موت سنائے جانے اور اس سزا پر عملی طور پر عمل درآمد کے درمیان کئی قانونی مراحل ہوتے ہیں۔ ان میں عدالتی نظرِ ثانی، سزا کی قانونی حیثیت، رحم کی درخواستوں اور متعلقہ سفارشات کا جائزہ شامل ہوسکتا ہے۔ امریکی فوج کے مطابق، فوجی قیدی کی سزائے موت کی حتمی منظوری دینے کا اختیار صدر کے پاس ہوتا ہے۔ اس مقدمے میں بھی سزا کے قانونی مراحل مکمل ہونے اور صدارتی منظوری کے بعد ہی عمل درآمد کی منصوبہ بندی سامنے آئی۔
اس کے باوجود یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ اب کسی قانونی رکاوٹ کا امکان باقی نہیں رہا۔ قانونی ماہرین کے مطابق، حسن شہری وفاقی عدالت میں ہیبیس کارپس کی درخواست دائر کرکے اپنی حراست یا سزا کی قانونی حیثیت کو چیلنج کرسکتے ہیں۔ ایسی درخواست کی صورت میں سزا پر عمل درآمد مؤخر بھی ہوسکتا ہے۔ حسن کے وکیل جان گیلیگن نے بھی اس امکان کی نشاندہی کی ہے، تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ ایسی درخواست دائر ہوچکی ہے یا عدالت نے سزا روکنے کا کوئی فیصلہ دیا ہے۔
کب، کہاں اور کس طریقے سے سزا دی جائے گی؟
امریکی فوج کے اعلان کے مطابق، ندال ملک حسن کو جمعرات، 3 دسمبر 2026 کو دوپہر ایک بجے امریکی سینٹرل اسٹینڈرڈ ٹائم کے مطابق، ٹیکساس کے فورٹ ہُڈ میں سزائے موت دینے کا منصوبہ ہے۔ اس مقصد کے لیے فائرنگ اسکواڈ کا انتخاب کیا گیا ہے۔ اس طریقے میں مقرر کردہ اہلکار گولیاں چلا کر سزا پر عمل درآمد کرتے ہیں۔ لہٰذا یہ پھانسی نہیں ہوگی، بلکہ موت کی سزا دینے کا ایک مختلف طریقہ ہوگا۔
امریکی فوج اس عمل کے لیے نئے عملی طریقۂ کار بھی تیار کررہی ہے، تاہم حسن کے مقدمے میں فائرنگ اسکواڈ کے انتظامات اور طریقۂ کار کی تمام تفصیلات ابھی واضح نہیں۔ اگر سزا مقررہ منصوبے کے مطابق نافذ ہوتی ہے تو یہ 1961 کے بعد امریکا میں پہلی فوجی سزائے موت ہوگی، جبکہ 1945 کے بعد امریکی فوج کی جانب سے فائرنگ اسکواڈ کے ذریعے سزا پر عمل درآمد کا پہلا واقعہ ہوگا۔ امریکی فوج میں آخری سزائے موت 13 اپریل 1961 کو جان بینیٹ کو پھانسی دے کر دی گئی تھی۔ تاہم، 3 دسمبر کی تاریخ کو حتمی اور ناقابلِ تبدیلی نہیں سمجھنا چاہیے، کیونکہ ممکنہ عدالتی کارروائی یا دیگر قانونی پیش رفت اس شیڈول کو متاثر کرسکتی ہے۔
سزائے موت کو براہِ راست نشر کرنے کا فیصلہ کیوں اہم ہے؟
اس پورے معاملے کا سب سے زیادہ متنازع پہلو سزا پر عمل درآمد کی براہِ راست نشریات کا اعلان ہے۔ امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ لوگ سزا پر عمل درآمد دیکھ سکیں اور یہ عمل عوامی ہو۔ بعدازاں پینٹاگون نے بھی تصدیق کی کہ سزا کی لائیو اسٹریمنگ کی جائے گی۔ لیکن یہاں ایک اہم فرق سمجھنا ضروری ہے: براہِ راست آن لائن نشریات کی تصدیق ہوچکی ہے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ دنیا بھر کے ٹی وی چینلز پر سزائے موت دکھانے کا فیصلہ بھی ہوچکا ہے۔
ابھی تک یہ واضح نہیں کہ نشریات کس سرکاری یا نجی پلیٹ فارم پر ہوں گی، ٹی وی اداروں کو اسے براہِ راست دکھانے یا بعد میں دوبارہ نشر کرنے کی اجازت ملے گی یا نہیں، اور ناظرین کی عمر یا رسائی کے حوالے سے کیا پابندیاں عائد کی جائیں گی۔ حکومت نے اس فیصلے کے تمام مقاصد اور قانونی حدود کی جامع وضاحت بھی سامنے نہیں رکھی۔
کیا یہ شفافیت ہے یا سیاسی تماشا؟
سزائے موت کی براہِ راست نشریات کے حامی اور ناقدین اس معاملے کو مختلف زاویوں سے دیکھتے ہیں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ فورٹ ہُڈ میں ہونے والے قتلِ عام کے متاثرین اور زندہ بچ جانے والوں کو انصاف ملنا چاہیے۔ پیٹ ہیگستھ کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت سزا پر عمل درآمد کو محض ایک انتظامی کارروائی کے بجائے ایک علامتی اہمیت بھی دینا چاہتی ہے۔ فورٹ ہُڈ ہی کو مقام کے طور پر منتخب کرنے کی وجہ یہ بتائی گئی کہ جرم اسی جگہ ہوا تھا۔ دوپہر ایک بجے کا وقت بھی حملے کے آغاز کے وقت سے مطابقت رکھنے کے لیے منتخب کیا گیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مقام اور وقت کے انتخاب میں ایک علامتی پیغام شامل ہے۔
تاہم، ان وجوہات کو براہِ راست نشریات کی مکمل قانونی یا اخلاقی توجیہ نہیں سمجھا جاسکتا۔ فورڈہم یونیورسٹی کی پروفیسر ڈیبورا ڈینو کے مطابق، ایسی نشریات عوام کو سزائے موت کی حقیقت دکھانے اور اس عمل میں شفافیت پیدا کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہیں۔ اس کے برعکس، یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، برکلے کے ڈیتھ پینلٹی کلینک کی شریک سربراہ الزبتھ سیمل نے اس اقدام کے انسانی اور اخلاقی پہلوؤں پر سوال اٹھائے ہیں۔ ان خدشات میں مجرم کے انسانی وقار، ناظرین کی رسائی اور حکومت کے اصل مقصد جیسے معاملات شامل ہیں۔
حسن کے وکیل جان گیلیگن نے بھی اس اقدام کو ممکنہ طور پر ایک ’’سیاسی تماشا‘‘ قرار دیا ہے۔ یہ آرا اس معاملے پر جاری بحث کی عکاسی کرتی ہیں، لیکن انہیں حکومت کی نیت کے بارے میں ثابت شدہ حقائق نہیں سمجھنا چاہیے۔ اسی طرح، نشریات کا اعلان ہوجانے کا مطلب یہ بھی نہیں کہ اس سے متعلق تمام قانونی معاملات طے پاچکے ہیں۔
کیا براہِ راست نشریات کو قانونی چیلنج کا سامنا ہوسکتا ہے؟
امریکا میں سزائے موت کے عمل کو عوام کے سامنے براہِ راست نشر کرنا ایک غیرمعمولی اقدام ہوگا۔ ماضی میں بھی بعض سزاؤں کی میڈیا کوریج سے متعلق کوششوں کو قانونی رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اس لیے یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ امریکی فوج اور پینٹاگون نشریات کے لیے کیا قواعد مرتب کرتے ہیں، اس عمل تک رسائی کس کو دی جاتی ہے اور ممکنہ قانونی اعتراضات کا کیا جواب دیا جاتا ہے۔
دوسری جانب، حسن کے وکیل نے صدارتی منظوری سے متعلق اطلاع دیتے وقت قانونی مشاورت کے معاملے پر بھی اعتراض اٹھایا ہے۔ ان کے مطابق، حسن کو اطلاع دیتے وقت وکیل کی موجودگی نہیں تھی اور یہ فوجی ضابطوں کے خلاف ہوسکتا ہے۔ امریکی فوج کا مؤقف ہے کہ وکلا سے رابطے کی متعدد کوششیں کی گئیں، متعلقہ پالیسی پر عمل کیا گیا اور حسن کو اپنے وکلا سے رابطہ کرنے سے نہیں روکا گیا۔ فی الحال یہ متضاد دعوے ہیں، جن پر کسی حتمی عدالتی فیصلے کی تصدیق سامنے نہیں آئی۔
اس مقدمے کی اصل اہمیت کیا ہے؟
ندال ملک حسن کا معاملہ دو الگ مگر باہم مربوط سوالات کو سامنے لاتا ہے۔ پہلا سوال یہ ہے کہ ایک سنگین جرم کے مرتکب شخص کو قانون کے مطابق کیا سزا دی جائے۔ دوسرا سوال یہ ہے کہ ریاست اس سزا پر کس طریقے سے عمل درآمد کرے اور کیا اسے عوام کے لیے ایک براہِ راست نشریاتی واقعہ بنانا مناسب ہے۔ کسی شخص کے سنگین جرم پر اسے قانونی سزا دینے کی حمایت کرنا اور اس سزا کو عوام کے سامنے براہِ راست دکھانے کی حمایت کرنا لازماً ایک ہی مؤقف نہیں۔ یہی فرق اس وقت امریکا میں جاری قانونی، اخلاقی اور سماجی بحث کا مرکز ہے۔
فورٹ ہُڈ کے واقعے نے امریکی فوجی نظام، داخلی سلامتی اور شدت پسندانہ نظریات کے اثرات کے حوالے سے کئی سوالات پیدا کیے تھے۔ اب سزا کی براہِ راست نشریات کا منصوبہ ریاستی اختیار، عوامی شفافیت اور انسانی وقار کے حوالے سے ایک نئی بحث کو جنم دے رہا ہے۔
فی الحال سب سے اہم بات یہ ہے کہ 3 دسمبر 2026 سزائے موت پر عمل درآمد کے لیے مقررہ تاریخ ہے، کوئی ایسی تاریخ نہیں جس میں تبدیلی کا امکان ختم ہوچکا ہو۔ اسی طرح، پینٹاگون کی جانب سے براہِ راست آن لائن نشریات کا اعلان تصدیق شدہ ہے، لیکن ٹی وی چینلز، نشریاتی پلیٹ فارم اور رسائی سے متعلق تمام تفصیلات ابھی سامنے نہیں آئیں۔