نئے ماڈلز کی آمد کے ساتھ پرانے آئی فونز بھی 100 ڈالر تک مہنگے

واشنگٹن (پاک ٹوڈے): ایپل نے 9 ستمبر کو منعقدہ اپنی سالانہ تقریب میں نئے ماڈلز پیش کرنے کے ساتھ ساتھ ایک غیر متوقع فیصلہ کرتے ہوئے پرانے آئی فونز کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔

​عمومی طور پر ایپل ہر سال نئے آئی فونز متعارف کراتے ہی پچھلے ماڈلز کی قیمتوں میں کمی کا اعلان کرتا ہے، تاہم اس بار کمپنی نے بالکل برعکس حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے آئی فون 16، 17، 17 ای اور آئی فون ایئر کی قیمتوں میں خاموشی سے 100 ڈالرز (تقریباً 100 ڈالر فی ماڈل) کا اضافہ کر دیا ہے۔

​قیمتوں میں اس حالیہ ردوبدل کے بعد بعض پرانے ماڈلز کی قیمتیں ان کی اصلی لانچنگ قیمت کے برابر یا اس سے بھی زیادہ ہو چکی ہیں۔

​آئی فون 16: ستمبر کے ایونٹ سے قبل اس کی قیمت 699 ڈالرز تھی، جو اب دوبارہ 799 ڈالرز ہو گئی ہے (یعنی وہی قیمت جس پر اسے 2024 میں لانچ کیا گیا تھا)۔

​آئی فون 17 ای: مارچ میں 599 ڈالرز میں متعارف کرایا گیا تھا، جو اب 100 ڈالرز اضافے کے بعد 699 ڈالرز کا ہو چکا ہے۔

​آئی فون 17: گزشتہ سال 799 ڈالرز میں پیش کیا گیا تھا، جو اب 899 ڈالرز کی سطح پر پہنچ گیا ہے۔
​آئی فون ایئر: 999 ڈالرز کے بجائے اب 1,099 ڈالرز میں دستیاب ہوگا۔

​ذرائع اور عالمی مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کے مطابق قیمتوں میں اس غیر معمولی اضافے کی بنیادی وجہ سیمی کنڈکٹر چپس اور دیگر الیکٹرانک پرزہ جات (کمپوننٹس) کی عالمی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ہے۔
​قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس سال پیش کیے جانے والے نئے ماڈلز (آئی فون 18 اور 18 پرو میکس) کی ابتدائی قیمتیں بھی گزشتہ سال کے فلیگ شپ ماڈلز کے مقابلے میں 100 ڈالرز زیادہ رکھی گئی ہیں۔

Related posts

لاہور ہائیکورٹ نے پنجاب کے میڈیکل کالجز کو افغان طلبہ نکالنے سے روک دیا۔

سوراب: ڈاکوؤں کی فائرنگ، خاران پریس کلب کے صدر کے بیٹے جاں بحق

پاکستانی نژاد خاتون کو 6 سال قید اور کروڑوں ڈالر جرمانے کی سزا