نئے صوبے انتظامی بنیادوں پر بننے چاہئیں، لسانی بنیادوں پر نہیں، وزیراعلیٰ بلوچستان

کوئٹہ (پاک ٹوڈے): وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے صوبے کے انتظامی امور، امن و امان اور نئے صوبوں کے قیام سے متعلق بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ صرف کوئٹہ میں بیٹھ کر پورے بلوچستان کے انتظامی امور کو مؤثر انداز میں کنٹرول کرنا ممکن نہیں۔

سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا صوبہ ہے، اس لیے انتظامی امور کی مؤثر انجام دہی کے لیے نئے انتظامی یونٹس کی ضرورت ہے۔

نئے صوبوں کے قیام سے متعلق وزیراعلیٰ بلوچستان نے اس کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ نئے صوبے لسانی بنیادوں پر نہیں بلکہ انتظامی بنیادوں پر بنائے جانے چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ انتظامی بنیادوں پر صوبوں کی تشکیل سے عوام کو حکومتی اداروں اور بنیادی سہولیات تک بہتر رسائی فراہم کی جا سکتی ہے۔

امن و امان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے سرفراز بگٹی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف سول اور عسکری قیادت مکمل طور پر ایک پیج پر ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان نے واضح کیا کہ ریاست کے خلاف بندوق اٹھانے والوں سے کوئی بات چیت نہیں کی جائے گی، جبکہ امن و امان کے قیام کے لیے ریاستی ادارے اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہے ہیں۔

Related posts

باجوڑ میں موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر 10 روز کے لیے پابندی عائد

پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی ایمرجنسی اور گورنر راج ختم کرانے کے لیے کردار ادا کرے گی، بیرسٹر گوہر

عمران خان کی بہن نورین نیازی کی طبیعت خراب، کوٹ لکھپت جیل سے امراضِ قلب اسپتال منتقل