تحریر: اسلام الدین ساجد
اسلام اباد : پاکستان میں نئے صوبوں کے قیام اور انتظامی ڈھانچے کی ازسرنو تشکیل پر سیاسی بحث شدت اختیار کر گئی ہے، پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹٰی ائی) کے رہنما سنیٹر مشعال یوسفزئی نے عمران خان کی رہائی سے مشروط نئے صوبوں کے قیام کے لئے اٹھائیسویں ائینی ترمیم یا ریفرنڈم کی حمایت کا عندیہ دیا ہے جبکہ پیپلزپارٹی نے سندھ کی تقسیم کی سخت مخالفت کی ہے۔
سماء ٹی وی کے پروگرام میں صحافی ندیم ملک سے گفتگو کرتے ہوئے مشعال یوسفزئی نے کہا کہ اگر عمران خان کو رہا کیا جاتا ہے تو پی ٹی آئی نئے صوبوں کے قیام میں تعاون کر سکتی ہے۔
ان کے مطابق عمران خان کے نئے صوبوں کی حمایت میں بیانات ریکارڈ پر موجود ہیں اور پارٹی منشور میں بھی اس حوالے سے موقف شامل ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ پارٹی میں اٹھارہ سے بیس سنئیر رہنماوں کے درمیان اس معاملے پر تفصیلی مشاورت ہوچکی ہے۔
تاہم، پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان اس سے قبل نئے صوبوں کے قیام میں جلد بازی کی مخالفت کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ متعلقہ صوبوں کے عوام اور منتخب نمائندوں کی رضامندی کے بغیر تقسیم وفاق کی یکجہتی کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ انہوں نے اس معاملے پر سیاسی اتفاق رائے اور کمیشن کے ذریعے غور کرنے کی تجویز بھی دی تھی۔
سیاسی جماعتوں کے موقف، کون سی سیاسی جماعت صوبوں کی حمایت یا مخالفت کرتی ہیں؟
پاکستان تحریک انصاف کے جانب سے تو مشروط حمایت اور جلدبازی کے بجائے مشاورت سے کام لینے کا موقف سامنے اچکا ہے۔ مشعال یوسفزئی کے مطابق پارٹی کے اندر کچھ سنئیر رہنماوں کے درمیان اس پر تفصیلی مشاورت بھی ہوئی ہے۔
تاہم پیپلز پارٹی سندھ کی تقسیم کی سخت مخالفت کررہی ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے نئے صوبوں پر بحث ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ سندھ اسمبلی بھی صوبے کی تقسیم کے خلاف قرارداد منظور کر چکی ہے۔
اسی طرح متحدہ قومی موومنٹ یا ایم کیو ایم نئے صوبوں کی حمایت کرتی ہے خصوصاً کراچی کو سندھ سے الگ صوبائی حیثیت دینے کی تجویز کی حامی ہے۔
پاکستان مسلم لیگ ن تاحال واضح پارٹی پالیسی سامنے نہیں آئی۔ گزشتہ روز وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا تھا کہ حکومت اٹھائسویں ترمیم کے ذریعے نئے صوبوں کے بنانے کے حوالے سے کوئی ائینی مسودہ تیار نہیں کررہا۔
اسی طرح جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے موجودہ حالات میں نئے صوبوں کے قیام کی مخالفت اور مناسب وقت، تیاری اور سیاسی مشاورت پر زور دیا ہے۔ تاہم انہوں نے اصولی طور پر صوبوں کے قیام کی مخالفت نہیں کی۔
پاکستان کے ایک اور بڑی سیاسی مذہبی پارٹی جماعت اسلامی نئے صوبوں کے بجائے بااختیار انتظامی یونٹس اور مضبوط بلدیاتی نظام کی حامی ہے۔
حکومتی اتحادی جماعت استحکام پاکستان پارٹی جنوبی پنجاب اور بہاولپور سمیت نئے صوبوں کے قیام کی حمایت کرتی ہے۔
سندھ کی تقسیم پر پیپلز پارٹی کا سخت مؤقف
پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے 27 اکتوبر کو کہا تھا کہ سندھ کے عوام اور ان کے منتخب نمائندے صوبے کی تقسیم کے خلاف اپنا فیصلہ دے چکے ہیں اور اب اس بحث کو ختم ہونا چاہیے۔
سندھ اسمبلی نے بھی ستمبر میں صوبے کی تقسیم اور نئی انتظامی اکائیوں کے قیام کے خلاف قرارداد منظور کی تھی۔ اس کے برعکس ایم کیو ایم پاکستان کراچی کو الگ صوبائی حیثیت دینے کے مطالبے پر قائم ہے، جس سے دونوں اتحادی جماعتوں کے درمیان اختلافات نمایاں ہوئے ہیں۔
حکومت کا مؤقف اور آئینی پیچیدگیاں
حکومت کی جانب سے نئے صوبوں کے قیام پر پارلیمان میں بحث کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے واضح کیا ہے کہ حکومت 28ویں آئینی ترمیم کے ذریعے نئے صوبے بنانے کے لیے کوئی مسودہ تیار نہیں کر رہی۔ ان کے مطابق بہتر طرز حکمرانی کے لیے بااختیار بلدیاتی نظام زیادہ اہم ہے۔
پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 239(4) کے تحت کسی صوبے کی حدود میں تبدیلی کے لیے متعلقہ صوبائی اسمبلی کے کل ارکان کی کم از کم دو تہائی اکثریت سے منظوری ضروری ہے۔ اس کے بعد آئینی ترمیم کا عمل پارلیمان میں مکمل کیا جا سکتا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق نئے صوبوں کے قیام سے انتظامی مسائل حل کرنے اور عوام کو بہتر خدمات فراہم کرنے کے امکانات موجود ہیں، لیکن اس کے لیے مالی وسائل، انتظامی ڈھانچے اور سیاسی اتفاق رائے کی ضرورت ہوگی۔
ہر نئے صوبے کے لیے الگ گورنر، وزیراعلیٰ، اسمبلی، سیکریٹریٹ، پولیس اور دیگر سرکاری اداروں کا قیام درکار ہوگا۔ ایسے وقت میں جب پاکستان قرضوں اور مالی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے، یہ سوال اہم ہے کہ نئے صوبوں کے اخراجات کیسے پورے کیے جائیں گے۔
بعض نئے صوبے اپنے وسائل پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں گے، جبکہ دیگر کو وفاقی مالی معاونت پر انحصار کرنا پڑ سکتا ہے۔ اسی لیے سیاسی رہنما اور ماہرین زور دے رہے ہیں کہ نئے صوبوں کے قیام کا فیصلہ جلد بازی کے بجائے جامع مشاورت، مالی منصوبہ بندی اور عوامی رضامندی کی بنیاد پر کیا جائے۔