لنڈی کوتل (پاک ٹوڈے): ضلع خیبر کے ڈسٹرکٹ پریس کلب لنڈی کوتل میں نقاب پوش افراد داخل ہو گئے اور مختلف کمروں کی تلاشی لینے کے بعد واپس چلے گئے۔ خود کو پولیس اہلکار ظاہر کرنے والے ان افراد کی آمد پر مقامی صحافیوں نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
صحافیوں کے مطابق یہ واقعہ شام 7 بج کر 30 منٹ کے بعد پیش آیا، جب نقاب پوش افراد اچانک پریس کلب میں داخل ہوئے اور مختلف کمروں کی جانچ پڑتال کی۔
مقامی صحافیوں نے واقعے کو پریس کلب کے تقدس اور صحافتی آزادی کے حوالے سے تشویش ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ پریس کلب ایک آزاد صحافتی مرکز ہے، جہاں عوامی مسائل اجاگر کیے جاتے ہیں۔ ان کے بقول ایسے ادارے میں نقاب پوش افراد کا اچانک داخل ہونا کئی سوالات کو جنم دیتا ہے اور صحافیوں میں خوف و ہراس پیدا کر سکتا ہے۔
صحافیوں کے مطابق واقعہ ایس ایچ او لنڈی کوتل کے نوٹس میں بھی لایا گیا، تاہم انہوں نے اس سے لاعلمی کا اظہار کیا۔
ڈسٹرکٹ پریس کلب کے صحافیوں نے صوبائی حکومت، گورنر خیبر پختونخوا، اے آر ڈی سی اور ملک بھر کی صحافتی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کا فوری نوٹس لیا جائے، نقاب پوش افراد کی آمد اور تلاشی کی وجوہات واضح کی جائیں اور ذمہ داروں کا تعین کیا جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے۔