پیرس (پاک ٹوڈے): فرانس میں تعلیمی نظام میں اساتذہ کی کمی، اسکولوں کی خستہ حالی اور بنیادی سہولتوں کے فقدان کے خلاف طلبہ کے احتجاج میں شدت آگئی، مظاہروں کے دوران کم از کم دو اسکولوں میں آگ لگانے کے واقعات پیش آئے جبکہ درجنوں افراد زخمی اور سیکڑوں گرفتار کیے گئے۔
خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق جنوبی شہر مارسی میں وکٹر ہیوگو ہائی اسکول میں ایک طالب علم نے کچرے کے ڈبے میں پٹرول ڈالنے کی کوشش کی، جس کے دوران چند اساتذہ بھی پٹرول کی زد میں آگئے۔ ابتدائی اطلاعات میں اساتذہ کو نشانہ بنانے کا ذکر کیا گیا تھا تاہم مقامی حکام نے بعد میں واقعے کو غیر ارادی قرار دیا۔
مارسی کے سینٹ ایکسپیوری ہائی اسکول میں آگ بجھانے کے لیے پہنچنے والی فائر بریگیڈ کی گاڑی کو سینکڑوں نوجوانوں نے گھیر لیا۔ پولیس کے مطابق مظاہرین نے فائر فائٹرز کو گاڑی سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا اور بعدازاں گاڑی کو آگ لگا دی۔
مغربی شہر نانت میں نیلسن منڈیلا ہائی اسکول میں بھی آتشزدگی کا واقعہ پیش آیا، تاہم حکام کے مطابق آگ پر قابو پالیا گیا اور کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
فرانس میں طلبہ کے احتجاج کا آغاز گزشتہ ہفتے ہوا تھا، جو اب پیرس کے مضافاتی علاقوں سے نکل کر ملک کے مختلف شہروں تک پھیل چکا ہے۔ طلبہ کا مؤقف ہے کہ کلاسوں میں گنجائش سے زیادہ طلبہ، اساتذہ کی کمی، ناکافی تعلیمی وسائل اور اسکولوں کی خستہ حالی نے تعلیمی ماحول کو متاثر کیا ہے۔
بعض مظاہرین نے پولیس پر آنسو گیس کے استعمال اور سخت کارروائیوں کے الزامات بھی عائد کیے ہیں، جبکہ حکام نے پولیس کے طرز عمل سے متعلق بعض شکایات کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔
فرانسیسی وزیر داخلہ لوراں نونیز نے کہا ہے کہ بعض مقامات پر شرپسند عناصر مختلف اسکولوں کا رخ کرکے تشدد کو ہوا دے رہے ہیں۔ وزیر تعلیم ایڈوارڈ گیفری کا کہنا ہے کہ احتجاج کے باعث جن اسکولوں میں طلبہ کی آمدورفت ممکن نہیں، وہاں آن لائن کلاسز کا انتظام کیا جاسکتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ تشدد طلبہ کے تعلیم حاصل کرنے کے بنیادی حق میں رکاوٹ نہیں بننا چاہیے۔
وزیراعظم سباستیاں لیکورنو کے دفتر میں احتجاج کی صورتحال پر ہنگامی اجلاس بھی ہوا، جبکہ وزیر تعلیم نے اساتذہ کی نمائندہ تنظیموں، والدین اور طلبہ کی انجمنوں سے ملاقاتوں کا اعلان کیا ہے۔
فرانس میں احتجاج ایسے وقت میں جاری ہے جب حکومت نے 2027 کے بجٹ میں اخراجات کم کرنے کے اقدامات کا اعلان کیا ہے، جن پر پہلے ہی تنقید کی جارہی ہے۔