پیرس (پاک ٹوڈے): فرانس میں تعلیمی معیار اور اسکولوں کی صورتحال کے خلاف طلبا کا احتجاج شدت اختیار کرگیا، پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کے دوران 1,747 افراد کو گرفتار کرلیا گیا۔
حکام کے مطابق احتجاج کے باعث ملک بھر میں 700 سے زائد اسکول متاثر ہوئے، جبکہ مختلف سڑکوں پر آگ لگانے کے واقعات بھی پیش آئے۔ مظاہرین اساتذہ کی کمی، کلاس رومز میں گنجائش سے زیادہ طلبا اور اسکولوں کی خستہ حال عمارتوں کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔
فرانس کے وزیر داخلہ لوراں نونیز نے بتایا کہ احتجاج کے دوران 1,747 افراد کو گرفتار کیا گیا۔ ان کے مطابق ملک میں صورتحال شہری بدامنی کی جانب بڑھ رہی ہے اور اسے قابو میں رکھنے کیلئے تمام دستیاب اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
وزیر انصاف ژیرال دارمانین نے کہا کہ احتجاج اب ہائی اسکول کے طلبا کے مظاہروں سے بڑھ کر امن و امان کا مسئلہ بن چکا ہے۔ ان کے مطابق فرانس کے 3,700 اسکولوں میں سے 735 کسی نہ کسی طرح پرتشدد مظاہروں سے متاثر ہوئے ہیں۔
احتجاج گزشتہ ہفتے پیرس سے شروع ہوا تھا اور اب مونپیلیے، نانت اور مارسیلے سمیت دیگر شہروں تک پھیل چکا ہے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ اسکولوں کے اوقات بہت طویل ہیں، کلاس رومز میں شدید گرمی ہوتی ہے جبکہ عملے کے متعدد ارکان بھی غیر حاضر رہتے ہیں۔
فرانس کے وزیر تعلیم ایڈوار ژیفغے نے الزام عائد کیا کہ طلبا کی احتجاجی تحریک کو غیر طلبا اپنے مقاصد کیلئے استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے اسکولوں میں ہونے والے تشدد اور توڑ پھوڑ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران تعلیمی ادارے شدید تشدد سے متاثر ہوئے ہیں۔
والدین نے بھی احتجاج کے دوران جھڑپوں، تشدد اور بدامنی کے باعث اپنے بچوں کے متاثر ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔