عمران خان سے ملاقات کی شرط اور 6.4 ارب روپے کا تنازع: خیبرپختونخوا کا وفاق کا حکم ماننے سے انکار

​پشاور (پاک ٹوڈے): خیبرپختونخوا حکومت نے وفاق کی ہدایت پر صوبائی مالیاتی منتقلی میں سے 6.4 ارب روپے منہا کرنے کی تجویز کو مکمل طور پر مسترد کرتے ہوئے آئینی و قانونی راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

​وزیر اعلیٰ سُہیل آفریدی کے مطابق وفاق کی جانب سے اس اضافی رقم کی فراہمی کو بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات اور ان کی منظوری سے مشروط کیا گیا تھا۔ تاہم ملاقات نہ کرائے جانے پر صوبائی حکومت نے متعلقہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط نہیں کیے اور نہ ہی مالی سال 2026-27 کے صوبائی بجٹ میں اس رقم کو شامل کیا۔

​وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ آئین کا آرٹیکل 164 وفاق کو صوبے کی رضامندی کے بغیر کسی قسم کا یکطرفہ مالیاتی اقدام کرنے کا اختیار نہیں دیتا۔ انہوں نے بتایا کہ صوبائی محکمہ خزانہ اور مشیرِ خزانہ مزمل اسلم نے اکاؤنٹنٹ جنرل کو تحریری ہدایات جاری کر دی ہیں کہ صوبے کی واضح منظوری کے بغیر کسی رقم کا لین دین یا منہائی درج نہ کی جائے۔ خیبرپختونخوا حکومت نے این ایف سی کے تحت حاصل اپنے آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے وفاقی آئینی عدالت میں باقاعدہ درخواست بھی دائر کر دی ہ

Related posts

یک مچھ تھانہ نذرِ آتش، کوئٹہ-تفتان شاہراہ پر 3 آئل ٹینکرز کو بھی آگ لگا دی گئی۔

جھل مگسی میں کرش پلانٹ پر حملہ: ٹھیکیدار سمیت 4 مزدور اغوا

پیٹرولیم لیوی اور مہنگائی کے خلاف احتجاج: جماعت اسلامی کا کراچی اور لاہور میں دھرنوں کا اعلان