اسلام آباد (پاک ٹوڈے): ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ خطے کے مسائل علاقائی ممالک کو خود حل کرنے چاہئیں اور انہیں بیرونی طاقتوں کے ہاتھوں کا کھلونا بننے سے گریز کرنا چاہیے۔
مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران خود حملوں کا نشانہ بنا ہے اور ان الزامات کو مسترد کیا کہ ایران دہشت گردی یا خطے میں عدم استحکام کا ذریعہ ہے۔ ان کے مطابق ایران نے صرف اپنا دفاع کیا اور حملوں کا جواب دیا، تاہم شہری آبادیوں کو نشانہ نہیں بنایا۔
ایرانی صدر نے کہا کہ ایران جارحیت یا بالادستی کے لیے طاقت حاصل نہیں کرنا چاہتا اور نہ ہی اپنی سلامتی دوسروں کی عدم سلامتی میں تلاش کرتا ہے۔ انہوں نے ایران کے جوہری پروگرام کو پرامن قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایران جوہری ہتھیار نہیں چاہتا اور پرامن جوہری ٹیکنالوجی پر پابندی نہیں ہونی چاہیے۔
مسعود پزشکیان نے کہا کہ جنگ امن نہیں لا سکتی اور ایران کے عوام کو ضروری سیکیورٹی فراہم کی جانی چاہیے۔ ان کے مطابق ایران خطے میں سلامتی کے حصول کے لیے تعاون کا خواہاں ہے۔
انہوں نے خطے میں جنگ کے پھیلاؤ کو سیکیورٹی کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے ہمسایہ ممالک کے درمیان تعاون پر زور دیا۔ ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ ایران اپنے ہمسایوں کو سیکیورٹی کا حریف نہیں سمجھتا۔
فلسطین کے معاملے پر مسعود پزشکیان نے کہا کہ فلسطین عالمی برادری کے ضمیر پر ایک کھلا زخم ہے جبکہ غزہ شہریوں کی تکالیف روکنے میں عالمی نظام کی ناکامی کی علامت بن چکا ہے۔ ان کے مطابق فلسطین کے لیے انصاف کے بغیر مغربی ایشیا میں پائیدار امن ممکن نہیں۔
ایرانی صدر نے کہا کہ ایران نے کبھی جنگ شروع نہیں کی اور ہمیشہ مذاکرات کے لیے اپنی وابستگی کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق ایران جارح نہیں رہا اور تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات کی میز پر موجود رہنے کا مؤقف اختیار کرتا رہا ہے۔
باہمی اعتماد کے حوالے سے مسعود پزشکیان نے کہا کہ اعتماد صرف الفاظ سے قائم نہیں ہوسکتا اور دوہرے معیارات کا خاتمہ ضروری ہے۔ ان کے مطابق حقیقی امن اور استحکام کے لیے سب کے لیے یکساں معیار ہونا چاہیے، جبکہ ایران خصوصی سلوک نہیں بلکہ مساوی حقوق چاہتا ہے۔
ایرانی صدر نے ایسے عالمی نظام کی ضرورت پر زور دیا جس میں تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری کو ترجیح دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ ایسی دنیا نہیں بننی چاہیے جہاں فوجی طاقت قانونی حیثیت، دہشت گردی سیاست، اور جنگ مکالمے و سفارت کاری کی جگہ لے لے۔
مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران بات چیت، سفارت کاری اور مذاکرات کے لیے تیار ہے، تاہم طاقت کی زبان قبول نہیں کرے گا۔
