اسلام آباد (پاک ٹوڈے): عالمی ہنگر انڈیکس 2026 کے مطابق پاکستان جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ ہنگر انڈیکس اسکور رکھنے والا ملک ہے، جو ملک میں غذائی تحفظ کے مسائل کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق معاشی عدم استحکام، اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافہ، موسمیاتی تبدیلیوں اور عالمی تنازعات نے خطے میں غذائی صورتحال کو متاثر کیا ہے۔
رپورٹ ’’غذائی تحفظ کے بغیر سلامتی ممکن نہیں‘‘ کے عنوان سے ویلتھنگر ہلفے، جرمنی کی روہر یونیورسٹی بوخم کے انسٹیٹیوٹ فار انٹرنیشنل لا آف پیس اینڈ آرمڈ کنفلکٹ اور سوئس تنظیم ہیلویٹاس نے مشترکہ طور پر جاری کی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں بھوک کے خاتمے کے لیے پیش رفت بڑی حد تک سست پڑ چکی ہے، جبکہ پاکستان اور افغانستان میں 2018 کے بعد صورتحال مزید خراب ہوئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کا عالمی ہنگر انڈیکس اسکور 25.5 ہے، جبکہ جنوبی ایشیا کا مجموعی اسکور 23.5 ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ان اعدادوشمار کے مطابق خطے میں بھوک کی صورتحال ’’سنگین‘‘ زمرے میں آتی ہے۔ اگرچہ پاکستان کا اسکور 2000 میں 36.2 کے مقابلے میں کم ہوا ہے، تاہم حالیہ برسوں میں غذائی تحفظ کے مسائل برقرار ہیں۔
پاکستان میں معاشی عدم استحکام اور خوراک کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے نے گھرانوں کی قوتِ خرید کو متاثر کیا ہے، جس کے باعث کم آمدنی والے افراد کے لیے مناسب خوراک کا حصول مشکل ہو گیا ہے۔ رپورٹ میں ناکافی غذائیت، بچوں میں وزن کی کمی اور نشوونما متاثر ہونے جیسے مسائل پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بچوں کی نشوونما میں کمی کی شرح میں بہتری کے آثار موجود ہیں، تاہم یہ مسئلہ اب بھی اہم چیلنج ہے۔ افغانستان میں 2018 کے بعد بچوں کی نشوونما میں کمی میں معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ دونوں ممالک میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کی شرحِ اموات میں طویل مدت کے دوران کمی آئی ہے۔
موسمیاتی آفات بھی غذائی بحران میں اضافے کا سبب بن رہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان اور بنگلہ دیش کے بعض علاقوں میں شدید بارشوں اور سیلاب سے فصلوں کو نقصان پہنچا، جبکہ افغانستان میں معمول سے کم بارشوں اور زیادہ درجہ حرارت نے 2026 کے اناج کے سیزن کو متاثر کیا۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں شدید غذائی عدم تحفظ برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔ عالمی سطح پر بھی جنگوں، موسمیاتی جھٹکوں اور معاشی بحرانوں کے باعث بھوک کے خاتمے کی کوششوں کو دھچکا پہنچ رہا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت کے تخمینوں کے مطابق 2023 سے 2025 کے دوران جنوبی ایشیا میں ایران سمیت 21 کروڑ 80 لاکھ افراد ناکافی غذائیت کا شکار تھے، جو دنیا بھر میں ناکافی غذائیت سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد کا تقریباً ایک تہائی بنتے ہیں۔