ضلع مہمند میں مقامی افراد نے رات کی تاریکی میں شدت پسندوں کا روپ دھارنے والے 10 مسلح ایف سی اہلکار پکڑ لیے۔

مہمند (پاک ٹوڈے): خیبر پختونخوا کے قبائلی ضلع مہمند کی تحصیل حلیمزئی کے علاقے آٹو خیل میں پیر کی رات سیکیورٹی اہلکاروں کی بغیر یونیفارم اور مشتبہ نقل و حرکت کے بعد شدید عوامی احتجاج اور تشویش کی لہر دوڑ گئی۔

تفصیلات کے مطابق علاقے میں غیر معمولی اور مشتبہ افراد کی موجودگی کی اطلاع پر بڑی تعداد میں مقامی نوجوان اپنے جان و مال کے تحفظ کے لیے گھروں سے نکل آئے اور قریبی پہاڑوں میں تلاش کا عمل شروع کیا۔

مقامی لوگوں کے مطابق فرنٹیئر کور (ایف سی) کی گاڑیوں میں 10 افراد کو لایا گیا جنہیں آٹو خیل کے ایک ویران علاقے میں چھوڑا گیا۔ ان کی ظاہری شکل طالبان عسکریت پسندوں جیسی بنائی گئی تھی۔ جب مقامی مسلح افراد نے پہاڑوں میں تلاش کر کے انہیں ڈھونڈ نکالا اور پوچھ گچھ کی تو معلوم ہوا کہ وہ ایف سی کے سرکاری اہلکار ہیں جن کے پاس سرکار کا فراہم کردہ اسلحہ بھی موجود تھا۔
پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے مقامی رکنِ قومی اسمبلی (ایم این اے) ساجد مہمند نے اپنے فیس بک پیغام میں موقف اختیار کیا کہ حساس علاقوں میں بغیر یونیفارم اور واضح شناخت کے مسلح افراد کا گھومنا خوف اور غلط فہمیوں کا باعث بنتا ہے۔ انہوں نے آٹو خیل کے لوگوں کے ردِعمل کو اپنے جان و مال کے تحفظ کا فطری حق قرار دیا۔

پاک ٹوڈے کو مقامی نوجوان نے بتایا کہ واقعہ کے بعد سیکیورٹی فورسز کے اعلیٰ حکام نے موقع پر پہنچ کر وضاحت کی کہ مذکورہ اہلکار عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت روکنے کے لیے سادہ کپڑوں میں تعینات کیے گئے تھے۔

سیکیورٹی حکام کی جانب سے مستقبل میں سادہ لباس میں کسی بھی اہلکار کو اس طرح نہ بھیجنے کی یقینی دہانی پر مقامی لوگوں نے حراست میں لیے گئے تمام 10 اہلکاروں کو محفوظ طریقے سے سیکیورٹی فورسز کی تحویل میں دے دیا۔

واضح رہے کہ سیکیورٹی فورسز کے اس طرح کے اقدامات کے خلاف مختلف علاقے کے لوگوں کی جانب سے شکایات موصول ہو رہی ہے۔

Related posts

ژوب: مسافر بس سے کسٹمز کانسٹیبل سلیم درانی کو اغواء کر کیا گیا

زیارت حملہ: کیپٹن ضیاء اللہ سمیت 5 سیکیورٹی اہلکار مارے گئے، 7 زخمی

زیارت کراس: پولیس اسٹیشن اور کسٹمز کی عمارت پر عسکریت پسندوں کا بڑا حملہ، بارودی مواد سے عمارت تباہ