صوبے اپنی فوج یا پولیس نہیں بنا سکتے، کے پی کے مجوزہ پولیس ایکٹ پر وفاق کے تحفظات

اسلام آباد (پاک ٹوڈے): وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے خیبرپختونخوا حکومت کے مجوزہ پولیس ایکٹ 2026 پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے اپنی فوج یا پولیس نہیں بنا سکتے اور پولیس کے کمانڈ اسٹرکچر کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ آئین اور قانون کے مطابق پولیس سروس آف پاکستان کے قواعد میں تبدیلی نہیں کی جاسکتی۔ ان کے مطابق دہشت گردی کے خلاف لڑنے والی پولیس کے کمانڈ اسٹرکچر کو سیاسی بنیادوں پر تبدیل کرنا مناسب نہیں۔

خیبرپختونخوا کابینہ نے گزشتہ روز پولیس ایکٹ 2026 کے مسودے کی منظوری دی تھی، جس میں صوبائی پولیس سربراہ کی تعیناتی سمیت پولیس کے پالیسی، انتظامی، آپریشنل اور مالی معاملات میں صوبائی حکومت کے اختیارات بڑھانے کی تجاویز شامل ہیں۔

مجوزہ قانون کے تحت وفاقی حکومت انسپکٹر جنرل پولیس کی تعیناتی کے لیے 3 افسران پر مشتمل پینل صوبائی حکومت کو بھجوائے گی، جس میں سے کسی ایک افسر کا انتخاب یا پورے پینل کو مسترد کرنے کا اختیار صوبائی حکومت کے پاس ہوگا۔

مسودے میں ریجنل پولیس افسران اور ضلعی پولیس افسران کی تعیناتی اور تبادلوں سے متعلق اختیارات میں بھی تبدیلی کی تجویز دی گئی ہے، جنہیں وزیراعلیٰ اور محکمہ داخلہ کے دائرہ اختیار میں دینے کی تجویز ہے۔

طلال چوہدری نے مجوزہ قانون پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس سے آئی جی کے اختیارات ہی متاثر نہیں ہوں گے بلکہ پورے کمانڈ اسٹرکچر میں تبدیلی آئے گی۔ ان کے بقول ڈی ایس پی سے آئی جی تک تعیناتیوں کے اختیارات وزیراعلیٰ کے پاس ہونے سے پولیس کے سیاسی اثر میں آنے کا خدشہ ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ایسی صورتحال میں پولیس دہشت گردی کے خلاف مؤثر طریقے سے لڑ سکے گی اور کیا پولیس اپنے افسران کے بجائے سیاسی نمائندوں کی طرف دیکھے گی۔

وزیر مملکت نے کہا کہ پولیس میں تعیناتیوں سے متعلق مشاورت اور ہدایات کا اختیار پہلے ہی تمام وزرائے اعلیٰ کے پاس ہے۔ ان کے مطابق خیبرپختونخوا گزشتہ 15 سے 20 سال سے دہشت گردی کا سامنا کر رہا ہے اور صوبے میں پولیس کے لیے مکمل انفرااسٹرکچر کی ضرورت ہے۔

طلال چوہدری نے خیبرپختونخوا کے کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے حوالے سے کہا کہ یہ ادارہ کرائے کی عمارت میں قائم ہے، جبکہ پنجاب میں سی ٹی ڈی کے لیے زیادہ محفوظ اور بلٹ پروف عمارتیں موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا میں سیف سٹی پشاور کا منصوبہ مکمل کیا گیا ہے اور اب صوبائی حکومت اس کا بھی مکمل کنٹرول حاصل کرنا چاہتی ہے۔

طلال چوہدری نے کہا کہ پولیس کے کمانڈ اسٹرکچر میں اس نوعیت کی تبدیلی سے فورس کا مورال متاثر نہیں ہونے دیا جاسکتا اور ایسی مثال بھی قائم نہیں کی جاسکتی کہ دیگر صوبے بھی اسی طرز کا نظام اختیار کریں۔

ان کے مطابق پولیس افسران کی ٹرانسفر اور پوسٹنگ سے متعلق اختیارات کے معاملات سندھ ہائی کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ میں پہلے بھی زیر بحث آچکے ہیں، جبکہ ماضی میں ایسے معاملات سپریم کورٹ تک بھی پہنچ چکے ہیں۔

وزیر مملکت نے کہا کہ مجوزہ قانون کا معاملہ عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وفاق ہر معاملے کو آئین اور قانون کی نظر سے دیکھتا ہے اور ایسی کوئی چیز برداشت نہیں کی جائے گی جو ان کے مطابق آئینی و قانونی تقاضوں سے متصادم ہو۔

طلال چوہدری نے مزید کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران پولیس کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش قابل قبول نہیں۔

پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کو اسلام آباد لانگ مارچ کے اعلان کے حوالے سے طلال چوہدری نے دعویٰ کیا کہ جمعرات کو دوپہر 12 بجے تک اسلام آباد آنے والے تمام 125 راستے کھلے تھے اور کوئی سڑک بند نہیں کی گئی۔

انہوں نے راستوں کی بندش سے متعلق سوال پر کہا کہ ممکن ہے بعض اطلاعات سوشل میڈیا یا واٹس ایپ سے سامنے آئی ہوں، تاہم ان کے مطابق زمینی صورتحال مختلف ہے اور اسلام آباد آنے والے تمام راستے کھلے ہیں۔

وزیر مملکت نے کہا کہ ضرورت پڑنے پر ہائی کورٹ کے احکامات پر مکمل عمل کیا جائے گا اور وفاق و صوبہ قانون کے مطابق ایسے اقدامات کریں گے جن سے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جاسکے۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی حملہ آور کو اسلام آباد پر حملے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔

Related posts

پشاور میں شدت پسندوں کی بڑی کارروائی کی کوشش ناکام، ایک شدت پسند اور ایک پولیس کانسٹیبل مارے گئے

کسانوں کا کل کوئٹہ سے اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا اعلان

نادرا کی جانب سے شناختی کارڈز بلاک کرنا غیر قانونی قرار، فوری بحالی کا حکم، بلوچستان ہائیکورٹ