برمنگھم (پاک ٹوڈے): پاکستان کے بیٹر صائم ایوب کی کیریبیئن پریمیئر لیگ (سی پی ایل) سے مختصر مدت میں برمنگھم منتقلی اور ٹیسٹ میچ میں شرکت کرانے کا فیصلہ بحث کا موضوع بن گیا ہے۔
سی پی ایل میں جمیکا کنگز کی نمائندگی کرنے والے صائم ایوب کو پاکستان کے ہنگامی طور پر تبدیل کیے گئے اسکواڈ میں شامل کیا گیا اور انہیں ٹیسٹ میچ میں اوپننگ کے لیے بھیجا گیا، تاہم وہ دونوں اننگز میں صفر پر آؤٹ ہوگئے۔
سابق انگلش کپتان ناصر حسین نے صائم ایوب کی سلیکشن پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ٹی20 کرکٹ سے براہِ راست ٹیسٹ میچ میں لانا ٹیسٹ کرکٹ کی توہین ہے۔
ناصر حسین کے مطابق دوسرے ملک میں بالکل مختلف فارمیٹ کھیلنے والے بیٹر کو اچانک انگلینڈ میں انگلینڈ کے بولنگ اٹیک کے خلاف ٹیسٹ میچ کھلانا مناسب فیصلہ نہیں تھا۔
انہوں نے کہا کہ ہر کھلاڑی اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ سب سے مشکل فارمیٹ ہے، جبکہ انگلینڈ کی کنڈیشنز میں ٹیسٹ میچ کے دوران اوپننگ کرنا مزید مشکل چیلنج بن جاتا ہے۔
سابق انگلش کپتان نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کے سابق اوپنر وریندر سہواگ، جو صائم ایوب سے زیادہ تجربہ کار اور بہتر بلے باز تھے، وہ بھی ایک مرتبہ اسی گراؤنڈ میں اچانک ٹیم میں شامل کیے گئے تھے، تاہم دونوں اننگز میں صفر پر آؤٹ ہوگئے تھے۔
واضح رہے کہ صائم ایوب نے اکتوبر 2025 کے بعد کوئی فرسٹ کلاس میچ نہیں کھیلا تھا۔
ناقدین کے مطابق معاملہ صرف صائم ایوب کی ناکامی تک محدود نہیں بلکہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے بحران کی صورتحال میں عجلت میں کیے گئے انتخاب پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے فیصلوں میں میچ سے قبل تیاری اور فرسٹ کلاس کرکٹ کے تجربے کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
