کراچی (پاک ٹوڈے): سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی پر سیاسی مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی قیادت کے خلاف بے بنیاد الزامات لگائے گئے تو ان کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کو سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور پارٹی میں ایسے لوگوں کو آگے آنا چاہیے جو سیاسی معاملات کو سمجھتے ہوں۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی چاہتی ہے کہ پی ٹی آئی کو سیاسی طور پر آگے بڑھنے کا موقع ملے، تاہم سہیل آفریدی کی جانب سے پیپلز پارٹی کے خلاف بیان بازی قابل قبول نہیں۔
شرجیل میمن نے کہا کہ اگر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پیپلز پارٹی کی قیادت پر الزامات عائد کریں گے تو انہیں حقائق کے ذریعے جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے ایک بار پھر مؤقف اختیار کیا کہ سہیل آفریدی نے مذاکراتی عمل کو نقصان پہنچایا ہے۔
پریس کانفرنس میں موجود پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما نیّر بخاری نے بھی سیاسی مذاکرات کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر دہشت گردی کی زبان ترک کردی جائے تو بات چیت کے راستے کھلے ہیں۔
نیّر بخاری کے مطابق پی ٹی آئی کی حمایت یافتہ مذاکراتی ٹیم کی اسپیکر سے ملاقات ہوئی، تاہم وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے اس مذاکراتی ٹیم کو مسترد کردیا، جس سے سیاسی رابطوں کے عمل پر سوالات اٹھے ہیں۔
سیاسی قیادت کے ان بیانات کے بعد پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے درمیان مذاکرات، سیاسی رابطوں اور باہمی الزامات کا معاملہ ایک بار پھر زیر بحث آگیا ہے۔