سیوٹا (پاک ٹوڈے): سپین نے سیاسی پناہ کی درخواستیں مسترد ہونے کے بعد ایک درجن سے زائد افریقی اور ایشیائی تارکینِ وطن کو مراکش واپس بھیج دیا ہے۔ یہ افراد سپین کے زیرِ انتظام علاقے سیوٹا پہنچے تھے۔
سپین کی وزارتِ داخلہ کے مطابق مراکش کی جانب سے ان افراد کو واپس لینے پر آمادگی ظاہر کیے جانے کے بعد انہیں وہاں بھیجا گیا، جہاں وہ فی الحال موجود ہیں۔
وزارت نے واپس بھیجے گئے افراد کی تعداد اور قومیتوں کی تفصیلات جاری نہیں کیں، تاہم سیوٹا میں کام کرنے والی تارکینِ وطن اور انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق 16 افراد کو ملک بدر کیا گیا ہے، جن کا تعلق سینیگال، نائیجیریا، یمن، کیمرون اور بنگلہ دیش سے ہے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس اقدام پر اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ واپسی کے فیصلوں میں مراکش میں غیر ملکی تارکینِ وطن کے ساتھ روا رکھے جانے والے سلوک سے متعلق خطرات کو نظرانداز کیا گیا۔ تنظیموں کے مطابق یہ اقدام سپین کی حکومت کے بیان کردہ اصولوں اور اقدار سے بھی مطابقت نہیں رکھتا۔
انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن نے واضح کیا ہے کہ وہ ملک بدری یا جبری بے دخلی کے عمل میں شریک نہیں ہوتا، بلکہ مراکش کے حکام کے ساتھ صرف ان تارکینِ وطن کی رضاکارانہ واپسی کے پروگراموں میں تعاون کرتا ہے جو اپنی مرضی سے اپنے وطن واپس جانے کا فیصلہ کرتے ہیں۔
سپین کی وزارتِ داخلہ کے ترجمان کے مطابق یورپی یونین مراکش کو ایک محفوظ ملک تصور کرتی ہے اور ملک بدری کے اقدامات تمام ضروری حفاظتی انتظامات کے تحت کیے جاتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جولائی میں صرف 48 گھنٹوں کے دوران تقریباً 80 ہزار افراد مراکش سے سیوٹا میں داخل ہوئے تھے۔ ان میں سے بیشتر چند روز کے اندر واپس چلے گئے، تاہم ہزاروں تارکینِ وطن اب بھی علاقے میں موجود ہیں۔ سیوٹا میں پیدا ہونے والے اس بحران کے باعث وزیراعظم پیڈرو سانچیز کی حکومت پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ 29 نومبر کو ہونے والے انتخابات سے قبل اس مسئلے کا حل نکالے۔