سعودی عرب کی پراسیکیوشن کا شیخ عبدالعزیز الطریفی کے لیے عدالت سے سزائے موت کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

ریاض (پاک ٹوڈے): سعودی عرب کے معروف عالمِ دین اور محدث شیخ عبدالعزیز الطریفی کے خلاف سعودی پبلک پراسیکیوشن کی جانب سے سزائے موت کی استدعا کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ‘القسط برائے حقوقِ انسانی’ کی تازہ رپورٹ کے مطابق پراسیکیوشن نے عدالت سے شیخ الطریفی کو سزائے موت دینے کی سفارش کی ہے۔ تاہم تنظیم نے واضح کیا ہے کہ مقدمے سے متعلق معلومات انتہائی محدود ہونے کے باعث یہ غیر یقینی ہے کہ آیا پراسیکیوشن اب بھی اسی مطالبے پر قائم ہے یا نہیں اور کیس کی موجودہ قانونی حیثیت کیا ہے۔

شیخ عبدالعزیز الطریفی کو اپریل 2016 میں سعودی ٹی وی چینل ‘العربیہ’ اور ریاستی مذہبی پالیسیوں پر آن لائن تنقید کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ اس وقت ریاض کی الحائر جیل میں شدید قیدِ تنہائی کا سامنا کر رہے ہیں، جہاں ان کی مسلسل گرتی ہوئی صحت کے باعث عالمی انسانی حقوق کے حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔

Related posts

افغانستان معاشی ترقی کے نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، انسانی امداد اور تعاون جاری رہے گا: آئی سی آر سی

علامہ اقبال ایئرپورٹ پر نیا امیگریشن ایریا فعال، مسافروں کو طویل قطاروں سے نجات مل گئی

نیپال: ​رسووا میں اچانک آنے والے سیلاب سے 291 غیر ملکی اور 93 نیپالی شہری بہہ گئے: نیپال ٹورزم بورڈ