سانحہ پمز کے 14 نومولود بچوں کی میتیں ورثاء کے حوالے، لواحقین کا ڈی این اے کا مطالبہ

​ آباد (پاک ٹوڈے): پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) اسپتال کے گائنی وارڈ میں آتشزدگی کے دلخراش سانحے میں جاں بحق ہونے والے 14 نومولود بچوں کی میتیں ان کے سوگوار ورثاء کے حوالے کر دی گئی ہیں۔

​ریسکیو ذرائع کے مطابق پمز اسپتال کی نرسری میں صبح 6 بج کر 45 منٹ پر ایئر کنڈیشنر (AC) کا کمپریسر پھٹنے سے اچانک آگ بھڑک اٹھی۔ واقعے کے وقت نرسری میں 15 بچے موجود تھے، جن میں سے صرف ایک بچے کو بچایا جا سکا جبکہ 14 معصوم بچے دم گھٹنے اور جھلسنے کے باعث جاں بحق ہو گئے۔

​میتوں کی حوالگی کے موقع پر شدید رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے اور بعض لواحقین نے بغیر شناخت کے لاشیں سونپنے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ڈی این اے (DNA) ٹیسٹ کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق بچوں کی اموات آکسیجن کی فراہمی بند ہونے اور جھلسنے کے باعث ہوئیں۔

Related posts

بیرسٹر افتخار گیلانی کا نام بطور وزیراعظم آزاد کشمیر فائنل کر دیا گیا، اجلاس میں فیصلہ

علامہ اقبال ایئرپورٹ پر نیا امیگریشن ایریا فعال، مسافروں کو طویل قطاروں سے نجات مل گئی

مینارِ پاکستان میں 43ویں عالمی میلاد مصطفیٰ کانفرنس سیرتِ طیبہ ﷺ کو عملی زندگی میں نافذ کرنا ہی حقیقی میلادِ مصطفیٰ ہے، ڈاکٹر طاہر القادری